یہ حادثہ بھی مِرے ساتھ پیش آیا تھا
میں جس سے ڈر گیا وہ میرا اپنا سایہ تھا
اسی کا اس کی تباہی میں ہاتھ شامل ہے
وہ جس کے واسطے دل کا مکاں سجایا تھا
تمہارے سنگ اٹھانے سے دکھ ہوا ہے مجھے
عدو سے شکوہ نہیں ہے کہ وہ پرایا تھا
نہ جانے کیسے وہ لوگوں کے ساتھ رہتا ہے
وہ جس کو اپنی نگاہوں سے بھی بچایا تھا
کسی کے نام کو چومو تو نور ملتا ہے
یہ میری ماں نے وظیفہ مجھے سکھایا تھا
بچھڑ گیا ہے تو شکوہ خدا سے بنتا ہے
وہ میرے حصے دعاؤں کے بعد آیا تھا
اکرام افضل
No comments:
Post a Comment