دور سب رنج اور ملال کروں
اِس جُدائی کو اب وِصال کروں
میں نے سوچا ہے تجھ کو جانِ غزل
اپنے شعروں میں بے مثال کروں
ہجر کی شدتیں پگھل جائیں
تجھ کو جب بھی لکھوں کمال کروں
نام تیرا عزیز ہے مجھ کو
کیسے اُس کو میں پائمال کروں
عشق اندھا ہے اِس کی بینائی
جی میں آتا ہے میں بحال کروں
منزہ سحر
No comments:
Post a Comment