Sunday, 12 September 2021

یہاں اب مسئلے حل ہو نہیں سکتے شکایت سے

 یہاں اب مسئلے حل ہو نہیں سکتے شکایت سے

امیدِ خیر رکھنا ہے حماقت اس حکومت سے

سبھی کو توڑنی ہوں گی عداوت کی یہ دیواریں

تمہیں جُڑنا پڑے گا ایک ہی ملی جماعت سے

وجود اپنا بچانا ہے تو اک پرچم تلے آؤ

وگرنہ اور دیکھے جاؤ گے تم اب حقارت سے

یہ کس نے کہہ دیا بس اہل ہیں دستار ہی والے

یہ ملت سرخرو ہو گی فقط مخلص قیادت سے

بڑی اب ذمہ داری آ پڑی ہے اہلِ دانش پر

نئی تنظیم کی تشکیل وہ کر لیں ذکاوت سے

سنو جب موت برحق ہے تواس کا خوف کیا معنی

کہیں عزت پہ بن آئے تو مر جانا شجاعت سے

تمہاری بزدلی سے بڑھ گئے ہیں حوصلے ان کے

نہ تھا مشکل تمہیں جینا یہاں پہلے شرافت سے

تمہاری گریہ و زاری نہ اب کچھ کام آئے گی

خدا کے واسطے ڈرنا نہیں دشمن کی ہیبت سے

بہت ہو منتشر یکسوئی کی صورت کرو پیدا

امیرِ کارواں اپنا بناؤ کوئی ملت سے

خود آپس میں نہیں مخلص تمہارے رہنما دینی

یہ امت پارہ پارہ ہو گئی ایسی قیادت سے

فراست جس میں ہو اب چاہیۓ ایسا کوئی قائد

جو واقف ہو زمانے بھر کی پیچیدہ سیاست سے

یہ لازم ہے کرو تشکیلِ نو ملی جماعت کی

وگرنہ غیر ممکن ہے نکلنا ایسی حالت سے

بُھلا کر نفرتوں کو آؤ پھر سے ایک ہو جاؤ

خسارہ ہی خسارہ ہے تمہارا اس عداوت سے

مِرا دل چاہتا ہے قوم کا نوحہ میں لکھ ڈالوں

مگر ارشاد! بچنا چاہتا ہوں بس طوالت سے


ارشاد دہلوی

No comments:

Post a Comment