اب گھر میں کوئی چیز پرانی نہیں ملتی
بھولا ہوں کہاں رکھ کے جوانی نہیں ملتی
لگتا ہے کہ اب زخمِ جگر سُوکھ گئے ہیں
آنکھوں میں وہ اشکوں کی روانی نہیں ملتی
کل تک جسے کہتے تھے سب اسکندرِ اعظم
ڈھونڈے سے بھی اب اس کی نشانی نہیں ملتی
ملتی ہیں بہت راتیں پر اس رات کے جیسی
پُر کیف و دل آویز سُہانی نہیں ملتی
ارزاں ہے بہت رنجش و حرمان و غم و یاس
بازارِ محبت میں گرانی نہیں ملتی
اس دور میں ملتے ہیں سب مطلب کے فسانے
وہ درد بھری پریم کہانی نہیں ملتی
کیا ساز نے اب کارِ جنوں چھوڑ دیا ہے
اشعار میں وہ شعلہ بیانی نہیں ملتی
ساز دہلوی
No comments:
Post a Comment