Sunday, 12 September 2021

منزل نہ کوئی موڑ نہ رستا دکھائی دے

منزل نہ کوئی موڑ نہ رستا دکھائی دے

عالم تمام دھند میں لپٹا دکھائی دے

قاتل دکھائی دے نہ مسیحا دکھائی دے

ہر شخص اک فریب تماشا دکھائی دے

ویسے تو زندگی ہے اجالوں کا شہر بھی

دیکھو تو مقبروں کا اندھیرا دکھائی دے

جاؤں ادھر تو ایک سمندر ہے بے کراں

دیکھو ادھر تو پیاس کا صحرا دکھائی دے

رنگین ہے قتل گل سے ابھی دامن بہار

دست ہوس سے خون ٹپکتا دکھائی دے

تحت الشعور میں ہے جو اک لمحۂ خیال

لفظوں کی سیڑھیوں سے اترتا دکھائی دے

سنتا ہوں ساعتوں میں نگار سحر کی چاپ

منظر نقاب شام الٹتا دکھائی دے

ڈھونڈو کسی حسین خرابے میں زندگی

یہ دل تو سادھوؤں کا بسیرا دکھائی دے

ارض دکن میں بات چلی ہے کچھ اس طرح

ثاقب! دیار شعر میں تنہا دکھائی دے


میر نقی علی خاں ثاقب

No comments:

Post a Comment