ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے
بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے
نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے
جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے
ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا
یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے
ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے
بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے
نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے
جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے
ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا
یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے
یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں
خزاں کے گیت بھی اپنی مٹھاس رکھتے ہیں
کہیں تو کیا کہیں ہم ان کی سادہ لوحی کو
جو قاتلوں سے ترحم کی آس رکھتے ہیں
کسی کے سامنے پھیلائیں کس لیے دامن
تمہارے درد کی دولت جو پاس رکھتے ہیں
کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہو گا
شاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہو گا
ہر سعئ تبسم پر آنسو نکل آئے ہیں
انجام طرب کوشی کیا جانئے کیا ہو گا
گمراہ محبت ہوں پوچھو نہ مری منزل
ہر نقش قدم میرا منزل کا پتا ہو گا
جب بھی تِری یادوں کی چلنے لگی پُروائی
ہر زخم ہوا تازہ،۔ ہر چوٹ ابھر آئی
اس بات پہ حیراں ہیں ساحل کے تماشائی
اک ٹوٹی ہوئی کشتی ہر موج سے ٹکرائی
مے خانے تک آ پہنچی انصاف کی رسوائی
ساقی سے ہوئی لغزش رندوں نے سزا پائی
جب تصور میں کوئی ماہ جبیں ہوتا ہے
رات ہوتی ہے مگر دن کا یقیں ہوتا ہے
اف وہ بے داد عنایت بھی تصدق جس پر
ہائے وہ غم جو مسرت سے حسیں ہوتا ہے
ہجر کی رات فسوں کارئ ظلمت مت پوچھ
شمع جلتی ہے مگر نور نہیں ہوتا ہے