Showing posts with label حفیظ بنارسی. Show all posts
Showing posts with label حفیظ بنارسی. Show all posts

Sunday, 3 May 2026

ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے

 ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے 

بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے 

نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے 

جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے 

ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا 

یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے 

Tuesday, 19 April 2022

یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں

یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں 

خزاں کے گیت بھی اپنی مٹھاس رکھتے ہیں 

کہیں تو کیا کہیں ہم ان کی سادہ لوحی کو 

جو قاتلوں سے ترحم کی آس رکھتے ہیں 

کسی کے سامنے پھیلائیں کس لیے دامن 

تمہارے درد کی دولت جو پاس رکھتے ہیں 

Sunday, 20 December 2020

کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہو گا

 کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہو گا

شاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہو گا

ہر سعئ تبسم پر آنسو نکل آئے ہیں

انجام طرب کوشی کیا جانئے کیا ہو گا

گمراہ محبت ہوں پوچھو نہ مری منزل

ہر نقش قدم میرا منزل کا پتا ہو گا

Monday, 5 October 2020

جب بھی تری یادوں کی چلنے لگی پروائی

 جب بھی تِری یادوں کی چلنے لگی پُروائی

ہر زخم ہوا تازہ،۔ ہر چوٹ ابھر آئی

اس بات پہ حیراں ہیں ساحل کے تماشائی

اک ٹوٹی ہوئی کشتی ہر موج سے ٹکرائی

مے خانے تک آ پہنچی انصاف کی رسوائی

ساقی سے ہوئی لغزش رندوں نے سزا پائی

Friday, 25 September 2020

جب تصور میں کوئی ماہ جبیں ہوتا ہے

 جب تصور میں کوئی ماہ جبیں ہوتا ہے

رات ہوتی ہے مگر دن کا یقیں ہوتا ہے

اف وہ بے داد عنایت بھی تصدق جس پر

ہائے وہ غم جو مسرت سے حسیں ہوتا ہے

ہجر کی رات فسوں کارئ ظلمت مت پوچھ

شمع جلتی ہے مگر نور نہیں ہوتا ہے

Sunday, 7 February 2016

ہاتھ دنیا سے دھو کے دیکھتے ہیں

ہاتھ دنیا سے دھو کے دیکھتے ہیں
سب سے بیگانے ہو کے دیکھتے ہیں
یونہی موجوں کو کچھ قرار آئے
اپنی کشتی ڈبو کے دیکھتے ہیں
تجھ کو پا کر تو کچھ نہ ملا ہمیں
زندگی! تجھ کو کھو کے دیکھتے ہیں

آستینوں میں نہ خنجر رکھئے

آستینوں میں نہ خنجر رکھیے
دل میں جو ہے وہی لب پر رکھیے
ہونٹ جلتے ہیں تو جلنے دیجیے
اپنی آنکھوں میں سمندر رکھیے
اپنی پرچھائیں بھی ڈس لیتی ہے
ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھیے

سفینے کا ناخدا بن گیا ہے

سفینے کا ناخدا بن گیا ہے
خدا کی طرح بات کرنے لگا ہے
کوئی اس کی صورت بھی دکھلا دے اس کو
جو ہر شخص پر تبصرے کر رہا ہے
دھواں اٹھ رہا ہے مِرے آشیاں سے
زمانہ سمجھتا ہے ہے کالی گھٹا ہے

Saturday, 6 February 2016

احسان کسی شخص کا سر پر نہیں رکھتے

احسان کسی شخص کا سر پر نہیں رکھتے
ہم ایسے تونگرہیں جو نوکر نہیں رکھتے
سرگرم سفر رہتے ہیں بستر نہیں رکھتے
کیا گھر کا پتہ دیں جو کوئی گھر نہیں رکھتے
لڑتے ہیں کڑی دھوپ سے دیوانے تمہارے
 سر پر کوئی مانگی ہوئی چادر نہیں رکھتے

کیا جرم ہمارا ہے بتا کیوں نہیں دیتے

کیا جرم ہمارا ہے بتا کیوں نہیں دیتے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے
کیا جلوۂ معنی ہے دکھا کیوں نہیں دیتے
دیوارِ حجابات گِرا کیوں نہیں دیتے
تم کو تو بڑا ناز مسیحائی تھا یارو
بیمار ہے ہر شخص دوا کیوں نہیں دیتے

معاذ اللہ معاذ اللہ یہ دور دلآزاری

معاذ اللہ,  معاذ اللہ, یہ دورِ دل آزاری
نہ دلجوئی نہ دلداری نہ ہمدردی نہ غمخواری
نہ جانے کس طرح ہو گا ہمارے درد کا درماں
بڑھے جاتے ہیں چارہ گر بڑھی جاتی ہے بیماری
خوشامد وہ بڑا فن ہے جو سب کو رام کرتا ہے
ہر اک دربار اس کا ہے، جس کا راگ درباری

Friday, 5 February 2016

ادھر بھی تباہی ادھر بھی تباہی

اِدھر بھی تباہی اُدھر بھی تباہی
کہاں جائیں آخر محبت کے راہی
مِرا عشق کیا ہے تِری دل نوازی
تِرا حسن کیا ہے مِری خوش نگاہی
وہی حُسن والے وہی ناز و غمزہ
وہی اہلِ دل ہیں، وہی کج کلاہی

چارہ گری کی گر تمہیں فرصت نہیں رہی

چارہ گری کی گر تمہیں فرصت نہیں رہی
دیدار کی ہمیں بھی ضرورت نہیں رہی
یوں ہی نہیں ہے جھوٹ کا بازار اتنا گرم
سچ بولنے کی ہم میں بھی جرأت نہیں رہی
بستی وہی ہے گھر بھی شریفوں کا ہے وہی
لیکن کسی بھی گھر میں شرافت نہیں رہی

تنہائی بھی عذاب ہے محفل بھی دوستو

تنہائی بھی عذاب ہے محفل بھی دوستو
آرام کی نہیں کوئی منزل بھی دوستو
موجِ بلا سے بچ کے کہاں جا رہے ہو تم
 موجِ بلا کی زد میں ہے ساحل بھی دوستو
 کیا جانے کتنی بار لٹا،۔ اور پھر بسا 
دلی سے کم نہیں ہے مِرا دل بھی دوستو

وطن کا نگہبان بنایا تھا جن کو

وطن کا نگہبان بنایا تھا جن کو
وہی آبروئے وطن لوٹتے ہیں
اشاروں پہ رہبر کے ہوتا ہے سب کچھ
 غلط ہے ہمیں راہ زن لوٹتے ہیں
کوئی موجِ طوفاں انہیں بھی ڈبو دے
 جو ناموسِ گنگ و جمن لوٹتے ہیں

Friday, 29 January 2016

کیوں آبروئے دیدہ تر کھو رہے ہیں لوگ

کیوں آبروئے دیدۂ تر کھو رہے ہیں لوگ
اندھوں کی انجمن ہے جہاں رو رہے ہیں لوگ
اللہ رہے ،۔۔ یہ بے خبری اہلِ ہوش کی
 سورج نکل چکا ہے مگر سو رہے ہیں لوگ
کس کے لہو کا داغ ہے،۔ جو چھُوٹتا نہیں
ہاتھوں کو بار بار یہ کیوں دھو رہے ہیں لوگ

دیار سنگ میں شیشے کا گھر حاصل ہوا ہم کو

دیارِ سنگ میں شیشے کا گھر حاصل ہوا ہم کو
بڑی مشکل سے جینے کا ہنر حاصل ہوا ہم کو
یہ دولت کیسی دولت ہے غرورِ حسن کیا جانے
خدا کا شکر ہے،۔ حسنِ نظر حاصل ہوا ہم کو
بجز صحرا نوردی، اور تقدیرِ جنوں کیا تھی
کوئی دیوار ہاتھ آئی، نہ در حاصل ہوا ہم کو

ہم شعلہ نفرت کو بجھانے میں لگے ہیں

ہم شعلۂ نفرت کو بجھانے میں لگے ہیں
وہ ہیں کہ، فقط آگ لگانے میں لگے ہیں
انسان کا غم بانٹنے نکلے تھے جو گھر سے
وہ لوگ بھی اب کھانے کمانے میں لگے ہیں
اس شہر میں انصاف طلب کیجیے کس سے
منصف جہاں قاتل کو بچانے میں لگے ہیں

کچھ جنوں کی داستاں کچھ آگہی کی بات ہے

کچھ جنوں کی داستاں، کچھ آگہی کی بات ہے
کیا کہیں لمحوں میں ہم جو اک صدی کی بات ہے
چشمِ ساقی کا، نہ صہبا کا، نہ پیمانے کا ذکر
مے کدہ در مے کدہ، اب تشنگی کی بات ہے
انگنت افراد پر یاں حکمراں ہیں چند لوگ
نام ہے جمہوریت کا خواجگی کی بات ہے

Thursday, 28 January 2016

تغافل کو طرز کرم جانتے ہیں

تغافل کو طرزِ کرم جانتے ہیں
تمہاری اداؤں کو ہم جانتے ہیں
فریبِ بہاراں نہ دو ہم کو یارو
کہ ہم اس کا سارا بھرم جانتے ہیں
چلے جا رہے ہیں مگر اپنی منزل
نہ تم جانتے ہو، نہ ہم جانتے ہیں