Tuesday, 19 April 2022

یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں

یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں 

خزاں کے گیت بھی اپنی مٹھاس رکھتے ہیں 

کہیں تو کیا کہیں ہم ان کی سادہ لوحی کو 

جو قاتلوں سے ترحم کی آس رکھتے ہیں 

کسی کے سامنے پھیلائیں کس لیے دامن 

تمہارے درد کی دولت جو پاس رکھتے ہیں 

انہیں حیات کی تہمت نہ دو عبث یارو 

جو اپنا جسم نہ اپنا لباس رکھتے ہیں 

قریب گل بدناں رہ چکے ہیں دیوانے 

یہ خار وہ ہیں جو پھولوں کی باس رکھتے ہیں 

کہاں بھگوئے کوئی اپنے خشک ہونٹوں کو 

یہ دور وہ ہے کہ دریا بھی پیاس رکھتے ہیں 

خدا کا شکر ادا کیجے خوش نصیبی پر 

حفیظ! آپ دل غم شناس رکھتے ہیں


حفیظ بنارسی

No comments:

Post a Comment