Showing posts with label میر تقی میر. Show all posts
Showing posts with label میر تقی میر. Show all posts

Friday, 12 July 2024

آیا محرم غمگیں رہا کر

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آیا محرم، غمگیں رہا کر

ابنِ علیؑ کا ماتم رکھا کر

شیون جہاں ہو رو روز جا کر

آخر نبیﷺ کے منہ سے حیا کر

صرف خزاں ہے باغ امامت

اچھی نہیں کچھ یاں کی علامت

Tuesday, 23 April 2024

وا رفتگان تیرے کوچے سے جب گزرتے ہیں

 وا رفتگان ز کویِ تو ہرگاه می ‌روند

جان می‌ دہند ہر قدم و راه می‌ روند

وا رفتگان تیرے کوچے سے جب گزرتے ہیں

ہر قدم پر جان دیتے ہیں اور راستہ چلتے ہیں

ناچار ہر سحر ز درت بی ‌کسانِ عشق

در دیده ہا سرشک و بہ لب آه می ‌روند

Wednesday, 10 April 2024

صبح عید اپنی ہے بدتر شب ماتم سے بھی

 دل کو تسکین نہیں اشکِ دما دم سے بھی​

اس زمانے میں گئی ہے برکت غم سے بھی​

ہم نشیں کیا کہوں اس رشکِ مہِ تاباں بِن​

صبحِ عید اپنی ہے بدتر شبِ ماتم سے بھی​

کاش اے جانِ المناک، نکل جاوے تُو​

اب تو دیکھا نہیں جاتا یہ ستم ہم سے بھی

Saturday, 29 July 2023

اے بدخشان نبی کے لعل احمر السلام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


اے بدخشانِ نبیؐ کے لعلِ احمر السّلام

اے گلستانِ علیؑ کے لالۂ تر السلام

ایک ساعت ہی میں اُمت پِھر گئی نانا کی سب

کیا قیامت لائی تیرے سر کے اوپر السلام

بُوند بھر پانی نہ دریا پر تجھے پینے دیا

اے تمنائے دلِ ساقئ کوثر السلام

Tuesday, 25 July 2023

الوداع اے افتخار نوع انساں الوداع

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


الوداع اے افتخارِ نوعِ انساں الوداع

بادشاہِ کم سپاہِ،۔ اہلِ ایماں الوداع

اے تمنائے دلِ زہرائےؑ بے کس ہے دریغ

اے ستم گشتہ، علیؑ کے خواہشِ جاں الوداع

ہو گئے پانی جگر، حسرت سے جب تُو نے کہا

خشک لب اہلِ حرم سے ہو کے گریاں الوداع

Saturday, 22 July 2023

جو معتقد نہیں ہے علی کے کمال کا ​

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


جو معتقد نہیں ہے علیؑ کے کمال کا ​

ہر بال اُس کے تن پہ ہے موجب وبال کا​

عزت علیؑ کی قدر علیؑ کی بہت ہے دور​

مورد ہے ذوالجلال کے عز و جلال کا​

پایا علیؑ کو جا کے محمدؐ نے اُس جگہ​

جس جا نہ تھا لگاؤ گمان و خیال کا

Sunday, 24 July 2022

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی

 خرابی کچھ نہ پوچھو ملکتِ دل کی عمارت کی

غموں نے آج کل سُنیو وہ آبادی ہی غارت کی

نگاہِ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کی

حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی

سحرگہ میں نے پوچھا گل سے حالِ زار بلبل کا

پڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی

Friday, 15 July 2022

دل تڑپے ہے جان کھپے ہے حال جگر کا کیا ہو گا

 دل تڑپے ہے جان کھپے ہے حال جگر کا کیا ہو گا

مجنوں مجنوں لوگ کہے ہیں مجنوں کیا ہم سا ہو گا

دیدۂ تر کو سمجھ کر اپنا ہم نے کیا کیا حفاظت کی

آہ نہ جانا روتے روتے، یہ چشمہ دریا ہو گا

کیا جانیں آشفتہ دِلاں کچھ ان سے ہم کو بحث نہیں

وہ جانے گا حال ہمارا، جس کا دل بیجا ہو گا

Wednesday, 13 July 2022

دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے

 دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے 

حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا، جانا ہے 

اس کی نگاہِ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں 

یعنی دل💓 پہلو میں میرے تیرِ ستم کا نشانہ ہے 

دل جو رہے تو پاؤں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں 

صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے 

Monday, 25 April 2022

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

 چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزارِ محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمارِ محبت

امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد

مر جائے تبھی چھوٹے گرفتارِ محبت

تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم

تھا دشمن جانی مِرا اقرارِ محبت

Wednesday, 20 April 2022

شہروں ملکوں میں جو یہ میر کہاتا ہے میاں

 شہروں ملکوں میں جو یہ میر کہاتا ہے میاں

دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں

عالم آئینہ ہے جس کا وہ مصور بے مثل

ہائے کیا صورتیں پردے میں بناتا ہے میاں

قسمت اس بزم میں لائی کہ جہاں کا ساقی

دے ہے مے سب کو ہمیں زہر پلاتا ہے میاں

دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے

 دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے 

حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا، جانا ہے 

اس کی نگاہِ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں 

یعنی دل پہلو میں میرے تیرِ ستم کا نشانہ ہے 

دل جو رہے تو پاؤں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں 

صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے

Wednesday, 18 August 2021

نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسینؑ 

دم ایک اور ہے اب میہماں امام حسین 

چراغِ آخرِ شب ہے گا یاں امام حسین 

سحر نمود ہوئی پر کہاں امام حسین 


فلک نکالی نئی گردش اب کے اے خوں خوار 

کہ قتل ہوتے ہیں ابنِ علیؑ کے خویش و تبار 

Saturday, 7 November 2020

کار دل اس مہ تمام سے ہے

 کارِ دل اس مہ تمام سے ہے

کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے

تم نہیں فتنہ ساز سچ صاحب

شہر پُرشور اس غلام سے ہے

بوسہ لے کر سرک گیا کل میں

کچھ کہو کام اپنے کام سے ہے

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

 غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

دل کے جانے کا نہایت غم رہا

حسن تھا تیرا بہت عالم فریب

خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا

دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلک

قطرۂ خوں تھا، مژہ پر جم رہا

Tuesday, 13 October 2020

مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا

مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا 

جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا 

دیکھا جو کچھ اس آمد و شُد میں تو میں کہوں 

خود گُم ہوا ہوں، بات کی تہہ اب جو پا گیا 

کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آبدیدہ کیوں 

مانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا 

Tuesday, 4 August 2020

جائے ہے جی نجات کے غم میں

جائے ہے جی نجات کے غم میں
ایسی جنت گئی جہنم میں
نزع میں میرے ایک دم ٹھہرو
دم ابھی ہیں ہزار اک دم میں
نعل ہم چھاتیوں پہ جڑ کے پھرے
اپنے خوں گشتہ دل کے ماتم میں

اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے

اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے
اس خصم جاں کے در پر تکیہ بنا کے بیٹھے
مرتے ہوئے بھی ہم کو صورت نہ آ دکھائی
وقت اخیر اچھا منہ کو چھپا کے بیٹھے
عزلت نشیں ہوئے جب، دل داغ ہو گیا تب
یعنی کہ عاشقی میں ہم گھر جلا کے بیٹھے

Friday, 4 May 2018

میرے سنگ مزار پر فرہاد

میرے سنگِ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بِن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دلِ ناشاد
آنکھیں مُوند اور سفر عدم کا کر
بس بہت دیکھا عالمِ ایجاد

اب جو اک حسرت جوانی ہے

اب جو اک حسرتِ جوانی ہے 
عمرِ رفتہ کی یہ نشانی ہے 
رشکِ یوسف ہے آہ وقت عزیز 
عمر اک بار کاروانی ہے 
گریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچ 
دل میں کوئی غم نہانی ہے