عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آیا محرم، غمگیں رہا کر
ابنِ علیؑ کا ماتم رکھا کر
شیون جہاں ہو رو روز جا کر
آخر نبیﷺ کے منہ سے حیا کر
صرف خزاں ہے باغ امامت
اچھی نہیں کچھ یاں کی علامت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آیا محرم، غمگیں رہا کر
ابنِ علیؑ کا ماتم رکھا کر
شیون جہاں ہو رو روز جا کر
آخر نبیﷺ کے منہ سے حیا کر
صرف خزاں ہے باغ امامت
اچھی نہیں کچھ یاں کی علامت
وا رفتگان ز کویِ تو ہرگاه می روند
جان می دہند ہر قدم و راه می روند
وا رفتگان تیرے کوچے سے جب گزرتے ہیں
ہر قدم پر جان دیتے ہیں اور راستہ چلتے ہیں
ناچار ہر سحر ز درت بی کسانِ عشق
در دیده ہا سرشک و بہ لب آه می روند
دل کو تسکین نہیں اشکِ دما دم سے بھی
اس زمانے میں گئی ہے برکت غم سے بھی
ہم نشیں کیا کہوں اس رشکِ مہِ تاباں بِن
صبحِ عید اپنی ہے بدتر شبِ ماتم سے بھی
کاش اے جانِ المناک، نکل جاوے تُو
اب تو دیکھا نہیں جاتا یہ ستم ہم سے بھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
اے بدخشانِ نبیؐ کے لعلِ احمر السّلام
اے گلستانِ علیؑ کے لالۂ تر السلام
ایک ساعت ہی میں اُمت پِھر گئی نانا کی سب
کیا قیامت لائی تیرے سر کے اوپر السلام
بُوند بھر پانی نہ دریا پر تجھے پینے دیا
اے تمنائے دلِ ساقئ کوثر السلام
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
الوداع اے افتخارِ نوعِ انساں الوداع
بادشاہِ کم سپاہِ،۔ اہلِ ایماں الوداع
اے تمنائے دلِ زہرائےؑ بے کس ہے دریغ
اے ستم گشتہ، علیؑ کے خواہشِ جاں الوداع
ہو گئے پانی جگر، حسرت سے جب تُو نے کہا
خشک لب اہلِ حرم سے ہو کے گریاں الوداع
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
جو معتقد نہیں ہے علیؑ کے کمال کا
ہر بال اُس کے تن پہ ہے موجب وبال کا
عزت علیؑ کی قدر علیؑ کی بہت ہے دور
مورد ہے ذوالجلال کے عز و جلال کا
پایا علیؑ کو جا کے محمدؐ نے اُس جگہ
جس جا نہ تھا لگاؤ گمان و خیال کا
خرابی کچھ نہ پوچھو ملکتِ دل کی عمارت کی
غموں نے آج کل سُنیو وہ آبادی ہی غارت کی
نگاہِ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کی
حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی
سحرگہ میں نے پوچھا گل سے حالِ زار بلبل کا
پڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی
دل تڑپے ہے جان کھپے ہے حال جگر کا کیا ہو گا
مجنوں مجنوں لوگ کہے ہیں مجنوں کیا ہم سا ہو گا
دیدۂ تر کو سمجھ کر اپنا ہم نے کیا کیا حفاظت کی
آہ نہ جانا روتے روتے، یہ چشمہ دریا ہو گا
کیا جانیں آشفتہ دِلاں کچھ ان سے ہم کو بحث نہیں
وہ جانے گا حال ہمارا، جس کا دل بیجا ہو گا
دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے
حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا، جانا ہے
اس کی نگاہِ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں
یعنی دل💓 پہلو میں میرے تیرِ ستم کا نشانہ ہے
دل جو رہے تو پاؤں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں
صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے
چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزارِ محبت
مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمارِ محبت
امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد
مر جائے تبھی چھوٹے گرفتارِ محبت
تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم
تھا دشمن جانی مِرا اقرارِ محبت
شہروں ملکوں میں جو یہ میر کہاتا ہے میاں
دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں
عالم آئینہ ہے جس کا وہ مصور بے مثل
ہائے کیا صورتیں پردے میں بناتا ہے میاں
قسمت اس بزم میں لائی کہ جہاں کا ساقی
دے ہے مے سب کو ہمیں زہر پلاتا ہے میاں
دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے
حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا، جانا ہے
اس کی نگاہِ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں
یعنی دل پہلو میں میرے تیرِ ستم کا نشانہ ہے
دل جو رہے تو پاؤں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں
صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسینؑ
دم ایک اور ہے اب میہماں امام حسین
چراغِ آخرِ شب ہے گا یاں امام حسین
سحر نمود ہوئی پر کہاں امام حسین
فلک نکالی نئی گردش اب کے اے خوں خوار
کہ قتل ہوتے ہیں ابنِ علیؑ کے خویش و تبار
کارِ دل اس مہ تمام سے ہے
کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے
تم نہیں فتنہ ساز سچ صاحب
شہر پُرشور اس غلام سے ہے
بوسہ لے کر سرک گیا کل میں
کچھ کہو کام اپنے کام سے ہے
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
دل کے جانے کا نہایت غم رہا
حسن تھا تیرا بہت عالم فریب
خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا
دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلک
قطرۂ خوں تھا، مژہ پر جم رہا
مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا
جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا
دیکھا جو کچھ اس آمد و شُد میں تو میں کہوں
خود گُم ہوا ہوں، بات کی تہہ اب جو پا گیا
کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آبدیدہ کیوں
مانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا