Wednesday, 13 July 2022

دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے

 دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے 

حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا، جانا ہے 

اس کی نگاہِ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں 

یعنی دل💓 پہلو میں میرے تیرِ ستم کا نشانہ ہے 

دل جو رہے تو پاؤں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں 

صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے 

سرخ کبھو آنسو ہیں ہوتے زرد کبھو ہے منہ میرا 

کیا کیا رنگ محبت کے ہیں یہ بھی ایک زمانہ ہے 

اس نومیدئ بے غایت پر کس مقدار کڑھا کریے 

دو دم جیتے رہنا ہے تو قیامت تک مر جانا ہے 

فرصت کم ہے یاں رہنے کی بات نہیں کچھ کہنے کی 

آنکھیں کھول کے کان جو کھولو بزمِ جہاں افسانہ ہے 

فائدہ ہو گا کیا متر تب ناصح ہرزہ درائی سے 

کس کی نصیحت کون سنے ہے عاشق تو دیوانہ ہے 

تیغ تلے ہی اس کے کیوں نہ گردن ڈال کے جا بیٹھیں 

سر تو آخرکار ہمیں بھی خاک کی اور جھکانا ہے 

آنکھوں کی یہ مردم داری دل کو کسو دلبر سے ہے 

طرزِ نگہ طراری ساری میر تمہیں پہچانا ہے 


میر تقی میر

No comments:

Post a Comment