Wednesday, 13 July 2022

ناخدا وہ اپنی کشتی کا اگر ہو جائے گا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نا خدا وہ اپنی کشتی کا اگر ہو جائے گا

طے بہ آسانی محبت کا سفر ہو جائے گا

دل سے جو بھی پیرو خیر البشر ہو جائے گا

وہ زمین و آسماں کا تاج سر ہو جائے گا

جلوۂ احمدﷺ کا نظارہ اگر ہو جائے گا

دیکھنے والا عزیز ہر نظر ہو جائے گا

فکر منزل دورئ ساحل بھی کوئی چیز ہے

پار ہے بیڑا اشارہ بھی اگر ہو جائے گا

دل میں ان کی یاد لب پر ذکر ان کا صبح و شام

خود بخود پیدا دعاؤں میں اثر ہو جائے گا

خاک طیبہ کو بنا لے گا جو سرمہ آنکھ کا

وہ یقیناً اس چمن کا دیدہ ور ہو جائے گا

باغ بن جائیں گے صحرا خاک بن جائیں گے پھول

اک اشارہ چشم احمدﷺ کا جدھر ہو جائے گا

ذرہ ذرہ دل کا بن جائے گا رشک آفتاب

پرتو حسن نبیؐ جب جلوہ گر ہو جائے گا

آسماں والے جھکیں گے اس کی عزت کے لیے

بندۂ درگاہ احمدﷺ جو بشر ہو جائے گا

فکر مرہم کیوں کریں ہم چارۂ غم کیوں کریں

حال دل کا آئینہ زخم جگر ہو جائے گا

ہم مدینے میں ہوں محوی ان کا روضہ سامنے

خود بخود پھر قصۂ غم مختصر ہو جائے گا


علامہ محوی صدیقی لکھنوی

محمد حسین صدیقی

No comments:

Post a Comment