کل ایک شخص جو اچھے بھلے لباس میں تھا
برہنہ آج وہ اُترا ہوا گلاس میں تھا
ہم آفتاب درخشاں جسے سمجھتے تھے
وہ ایک وہم کا جگنو ہوس کی گھاس میں تھا
زمین و عرش کی تقسیم کے زمانے میں
بشر اسیر جنوں تھا کہاں حواس میں تھا
کل ایک شخص جو اچھے بھلے لباس میں تھا
برہنہ آج وہ اُترا ہوا گلاس میں تھا
ہم آفتاب درخشاں جسے سمجھتے تھے
وہ ایک وہم کا جگنو ہوس کی گھاس میں تھا
زمین و عرش کی تقسیم کے زمانے میں
بشر اسیر جنوں تھا کہاں حواس میں تھا
بیٹھا ہے سوگوار ستمگر کے شہر میں
کس کو پکارے آئینہ پتھر کے شہر میں
بے جا نہیں فضاؤں کا حیرت میں ڈوبنا
اتنا سکوت اور سخن ور کے شہر میں
اس دور میں اسی کو ہنر مند مانیے
جینا نہیں پڑا جسے مر مر کے شہر میں
پھر کوئی مشکل جواں ہونے کو ہے
دوستوں کا امتحاں ہونے کو ہے
جھونکے دم سادھے کھڑے ہیں چار سو
کوئی ہنگامہ یہاں ہونے کو ہے
بھیگ جانے پر بھی جو بجھتا نہ تھا
آج وہ شعلہ دھواں ہونے کو ہے
کسے خیال کہ عشرت کے باب کتنے ہیں
یہ پیاس کتنی ہے، اس پر سراب کتنے ہیں
سفینہ گھاٹ لگا دیکھ ہم یہ بھول گئے
کہ وہ سفینے جو ہیں غرق آب کتنے ہیں
تو یہ نہ پوچھ مرے گاؤں میں ہیں گھر کتنے
یہ پوچھ کون سے گھر میں عذاب کتنے ہیں