Showing posts with label امر سنگھ فگار. Show all posts
Showing posts with label امر سنگھ فگار. Show all posts

Monday, 6 July 2026

کل ایک شخص جو اچھے بھلے لباس میں تھا

 کل ایک شخص جو اچھے بھلے لباس میں تھا

برہنہ آج وہ اُترا ہوا گلاس میں تھا

ہم آفتاب درخشاں جسے سمجھتے تھے

وہ ایک وہم کا جگنو ہوس کی گھاس میں تھا

زمین و عرش کی تقسیم کے زمانے میں

بشر اسیر جنوں تھا کہاں حواس میں تھا

Sunday, 29 December 2024

بیٹھا ہے سوگوار ستمگر کے شہر میں

 بیٹھا ہے سوگوار ستمگر کے شہر میں

کس کو پکارے آئینہ پتھر کے شہر میں

بے جا نہیں فضاؤں کا حیرت میں ڈوبنا

اتنا سکوت اور سخن ور کے شہر میں

اس دور میں اسی کو ہنر مند مانیے

جینا نہیں پڑا جسے مر مر کے شہر میں

Tuesday, 24 December 2024

پھر کوئی مشکل جواں ہونے کو ہے

 پھر کوئی مشکل جواں ہونے کو ہے

دوستوں کا امتحاں ہونے کو ہے

جھونکے دم سادھے کھڑے ہیں چار سو

کوئی ہنگامہ یہاں ہونے کو ہے

بھیگ جانے پر بھی جو بجھتا نہ تھا

آج وہ شعلہ دھواں ہونے کو ہے

Saturday, 21 December 2024

یہ پوچھ کون سے گھر میں عذاب کتنے ہیں

 کسے خیال کہ عشرت کے باب کتنے ہیں

یہ پیاس کتنی ہے، اس پر سراب کتنے ہیں

سفینہ گھاٹ لگا دیکھ ہم یہ بھول گئے

کہ وہ سفینے جو ہیں غرق آب کتنے ہیں

تو یہ نہ پوچھ مرے گاؤں میں ہیں گھر کتنے

یہ پوچھ کون سے گھر میں عذاب کتنے ہیں