مسرّت چیز کیا ہے رنج کیا ہے
یہ سارا کھیل اک احساس کا ہے
بہار زندگی کہتے ہیں جس کو
کسی کے اک تبسّم کی ضیا ہے
خطائے بے وفائی اور ہم سے
یقیناً آپ کو دھوکا ہوا ہے
مسرّت چیز کیا ہے رنج کیا ہے
یہ سارا کھیل اک احساس کا ہے
بہار زندگی کہتے ہیں جس کو
کسی کے اک تبسّم کی ضیا ہے
خطائے بے وفائی اور ہم سے
یقیناً آپ کو دھوکا ہوا ہے
پئے جاتا ہوں ساقی کی نظر سے
مجھے کیا گردش شام و سحر سے
مناسب ہے غرور حسن لیکن
اتر جائے گا سودا بھی یہ سر سے
یہ کن بیتے دنوں کی یاد آئی
یہ کیسے اشک ٹپکے چشم تر سے
غم میں اک لطف شادمانی ہے
ٹھوکروں میں بھی کامرانی ہے
صرف اک عشق غیر فانی ہے
ورنہ ہر چیز آنی جانی ہے
جو نہیں آشنا محبت سے
دل پہ اس بُت کی حکمرانی ہے
غافل ہوں تِری یاد سے ایسا تو نہیں ہے
ہر وقت مِرے دل میں تِری یاد مکیں ہے
دنیائے محبت بڑی دل کش ہے حسیں ہے
ہر ایک کو راس آئے ضروری تو نہیں ہے
مانا کہ زمانے کا ہر اک نقش حسیں ہے
اس پر بھی زمانے میں کوئی تجھ سا نہیں ہے
زمانے بھر میں بہت معتبر اُجالا ہے
یہ دیکھنا ہے مگر کس کے گھر اجالا ہے
ہُوا نہ سامنا دونوں کا اتفاقاً بھی
اندھیرا ہے بھی کہیں بے خبر اجالا ہے
مِری اس ادنیٰ سی جُرأت کی کوئی داد تو دے
گو پھونک کر ہی سہی گھر مگر اجالا ہے