خود اپنے جذبِ محبت کی انتہا ہوں میں
تِرے جمال کی تصویر بن گیا ہوں میں
حدیثِ عشق ہوں، افسانۂ وفا ہوں میں
بُھلا سکے نہ جسے تم وہ ماجرا ہوں میں
مِری سرشت ہے ہنس ہنس کے زخم غم کھانا
کہ حادثات میں پَل کر جواں ہوا ہوں میں
خود اپنے جذبِ محبت کی انتہا ہوں میں
تِرے جمال کی تصویر بن گیا ہوں میں
حدیثِ عشق ہوں، افسانۂ وفا ہوں میں
بُھلا سکے نہ جسے تم وہ ماجرا ہوں میں
مِری سرشت ہے ہنس ہنس کے زخم غم کھانا
کہ حادثات میں پَل کر جواں ہوا ہوں میں
فکر پابندئ حالات سے آگے نہ بڑھی
زندگی قید مقامات سے آگے نہ بڑھی
ہم سمجھتے تھے غمِ دل کا مداوا ہو گی
وہ نظر پُرسشِ حالات سے آگے نہ بڑھی
ان کی خاموشی بھی افسانہ در افسانہ بنی
ہم نے جو بات کہی بات سے آگے نہ بڑھی
تِرے کرم سے تِری بے رخی سے کیا لینا
مِرے خلوص وفا کو کسی سے کیا لینا
سکونِ قلب نہ آسائش حیات نصیب
یہ زندگی ہے تو اس زندگی سے کیا لینا
تُو اپنی وضع کو رسوائے عرض حال نہ کر
کسی کو تیرے غم بے بسی سے کیا لینا
خود اپنے آپ سے ہم بے خبر سے گُزرے ہیں
خبر کہاں کہ تِری رہگزر سے گزرے ہیں
نفس نفس ہے معطر،۔ نظر نظر شاداب
کہ جیسے آج وہ خواب سحر سے گزرے ہیں
نہ پوچھ کتنے گُل و نسترن کا رُوپ لیے
بہارِ نو کے تقاضے نظر سے گزرے ہیں
وہ چال چل کہ زمانہ بھی ساتھ چلنے لگے
نگار زیست تِری سمت رخ بدلنے لگے
وفورِ یاس میں مژدہ ہے کس کے آنے کا
یہ آج کیوں سرِ مژگاں چراغ جلنے لگے
زمانہ پھیر لے آنکھیں تو کیا گِلہ اس کا
ستم تو یہ ہے کہ تم بھی نظر بدلنے لگے
قبول کر کے تیرا غم خوشی خوشی میں نے
تِرے جمال کو بخشی ہے زندگی میں نے
بس اک نگاہ توجہ پہ اس طرح خوش ہوں
کہ جیسے دولتِ کونین لُوٹ لی میں نے
دھڑک رہا تھا مِرے ہر نفس میں دل ان کا
سُنی قریب سے آواز دور کی میں نے