Showing posts with label حمید ناگپوری. Show all posts
Showing posts with label حمید ناگپوری. Show all posts

Friday, 29 September 2023

خود اپنے جذب محبت کی انتہا ہوں میں

 خود اپنے جذبِ محبت کی انتہا ہوں میں

تِرے جمال کی تصویر بن گیا ہوں میں

حدیثِ عشق ہوں، افسانۂ وفا ہوں میں

بُھلا سکے نہ جسے تم وہ ماجرا ہوں میں

مِری سرشت ہے ہنس ہنس کے زخم غم کھانا

کہ حادثات میں پَل کر جواں ہوا ہوں میں

Saturday, 27 May 2023

فکر پابندئ حالات سے آگے نہ بڑھی

 فکر پابندئ حالات سے آگے نہ بڑھی

زندگی قید مقامات سے آگے نہ بڑھی

ہم سمجھتے تھے غمِ دل کا مداوا ہو گی

وہ نظر پُرسشِ حالات سے آگے نہ بڑھی

ان کی خاموشی بھی افسانہ در افسانہ بنی

ہم نے جو بات کہی بات سے آگے نہ بڑھی

Sunday, 30 April 2023

ترے کرم سے تری بے رخی سے کیا لینا

 تِرے کرم سے تِری بے رخی سے کیا لینا

مِرے خلوص وفا کو کسی سے کیا لینا

سکونِ قلب نہ آسائش حیات نصیب

یہ زندگی ہے تو اس زندگی سے کیا لینا

تُو اپنی وضع کو رسوائے عرض حال نہ کر

کسی کو تیرے غم بے بسی سے کیا لینا

Thursday, 27 April 2023

خود اپنے آپ سے ہم بے خبر سے گزرے ہیں

 خود اپنے آپ سے ہم بے خبر سے گُزرے ہیں

خبر کہاں کہ تِری رہگزر سے گزرے ہیں

نفس نفس ہے معطر،۔ نظر نظر شاداب

کہ جیسے آج وہ خواب سحر سے گزرے ہیں

نہ پوچھ کتنے گُل و نسترن کا رُوپ لیے

بہارِ نو کے تقاضے نظر سے گزرے ہیں

Wednesday, 3 November 2021

وہ چال چل کہ زمانہ بھی ساتھ چلنے لگے

وہ چال چل کہ زمانہ بھی ساتھ چلنے لگے

نگار زیست تِری سمت رخ بدلنے لگے

وفورِ یاس میں مژدہ ہے کس کے آنے کا

یہ آج کیوں سرِ مژگاں چراغ جلنے لگے

زمانہ پھیر لے آنکھیں تو کیا گِلہ اس کا

ستم تو یہ ہے کہ تم بھی نظر بدلنے لگے

Monday, 1 November 2021

قبول کر کے تیرا غم خوشی خوشی میں نے

قبول کر کے تیرا غم خوشی خوشی میں نے

تِرے جمال کو بخشی ہے زندگی میں نے

بس اک نگاہ توجہ پہ اس طرح خوش ہوں

کہ جیسے دولتِ کونین لُوٹ لی میں نے

دھڑک رہا تھا مِرے ہر نفس میں دل ان کا

سُنی قریب سے آواز دور کی میں نے