تم ہی تو وجہ زندگی تم ہی تو مقصد حیات
جانِ جہانِ آرزو،۔۔ رُوحِ روانِ کائنات
بھُول بھی جائیے کہیں ساری اضافتوں کی بات
وہم دُوئی بھی کُفر ہے ایک وجود ایک ذات
پرتوِ حُسنِ یار ہوں ذاتِ جہاں صفت وہاں
جانے کہاں کہاں مجھے ڈھونڈ رہی ہے کائنات
تم ہی تو وجہ زندگی تم ہی تو مقصد حیات
جانِ جہانِ آرزو،۔۔ رُوحِ روانِ کائنات
بھُول بھی جائیے کہیں ساری اضافتوں کی بات
وہم دُوئی بھی کُفر ہے ایک وجود ایک ذات
پرتوِ حُسنِ یار ہوں ذاتِ جہاں صفت وہاں
جانے کہاں کہاں مجھے ڈھونڈ رہی ہے کائنات
ایک ہی طرح پہ ہر شخص کی قسمت نہ ہوئی
سب کے حصے کی تِرے غم کی مسرت نہ ہوئی
وہ محبت تِری جس پر مِرا سب کچھ بھی نثار
وہ مِرا دل ہے کہ جس کی کوئی قیمت نہ ہوئی
ایسا بے گانہ غم لذت غم کیا جانے
جس کو تا عمر کسی سے بھی محبت نہ ہوئی
ترکِ غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے
اب تو دل کی ہر دھڑکن عالم آشکارا ہے
ہم سے بے سہاروں کو آپ کا سہارا ہے
آپ ہی کی دُکھ سُکھ میں عُمر بھر پکارا ہے
موج خُود سفینہ ہے بحر خُود کنارا ہے
ناخدا سے کیا مطلب جب خدا ہمارا ہے
تمنّا دو دِلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے
اب ان کی ہر خوشی اپنی خوشی معلوم ہوتی ہے
دلوں پر سب کے اک افسردگی معلوم ہوتی ہے
تِری محفل میں یہ کس کی کمی معلوم ہوتی ہے
سمجھ کی چال چل جاتا ہے دِیوانہ محبت کا
بظاہر وہ بھی اک دِیوانگی معلوم ہوتی ہے