Showing posts with label کامل شطاری. Show all posts
Showing posts with label کامل شطاری. Show all posts

Wednesday, 19 January 2022

تم ہی تو وجہ زندگی تم ہی تو مقصد حیات

تم ہی تو وجہ زندگی تم ہی تو مقصد حیات

جانِ جہانِ آرزو،۔۔ رُوحِ روانِ کائنات

بھُول بھی جائیے کہیں ساری اضافتوں کی بات

وہم دُوئی بھی کُفر ہے ایک وجود ایک ذات

پرتوِ حُسنِ یار ہوں ذاتِ جہاں صفت وہاں

جانے کہاں کہاں مجھے ڈھونڈ رہی ہے کائنات

Friday, 7 January 2022

عید کے دن بھی انہیں کوئی مسرت نہ ہوئی

ایک ہی طرح پہ ہر شخص کی قسمت نہ ہوئی

سب کے حصے کی تِرے غم کی مسرت نہ ہوئی

وہ محبت تِری جس پر مِرا سب کچھ بھی نثار

وہ مِرا دل ہے کہ جس کی کوئی قیمت نہ ہوئی

ایسا بے گانہ غم لذت غم کیا جانے

جس کو تا عمر کسی سے بھی محبت نہ ہوئی

Friday, 17 September 2021

ترک غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے

ترکِ غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے

اب تو دل کی ہر دھڑکن عالم آشکارا ہے

ہم سے بے سہاروں کو آپ کا سہارا ہے

آپ ہی کی دُکھ سُکھ میں عُمر بھر پکارا ہے

موج خُود سفینہ ہے بحر خُود کنارا ہے

ناخدا سے کیا مطلب جب خدا ہمارا ہے

Thursday, 12 August 2021

تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے

تمنّا دو دِلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے

اب ان کی ہر خوشی اپنی خوشی معلوم ہوتی ہے

دلوں پر سب کے اک افسردگی معلوم ہوتی ہے

تِری محفل میں یہ کس کی کمی معلوم ہوتی ہے

سمجھ کی چال چل جاتا ہے دِیوانہ محبت کا

بظاہر وہ بھی اک دِیوانگی معلوم ہوتی ہے