ایک ہی طرح پہ ہر شخص کی قسمت نہ ہوئی
سب کے حصے کی تِرے غم کی مسرت نہ ہوئی
وہ محبت تِری جس پر مِرا سب کچھ بھی نثار
وہ مِرا دل ہے کہ جس کی کوئی قیمت نہ ہوئی
ایسا بے گانہ غم لذت غم کیا جانے
جس کو تا عمر کسی سے بھی محبت نہ ہوئی
ہائے کم بخت نصیبہ تِرے مہجوروں کا
عید کے دن بھی انہیں کوئی مسرت نہ ہوئی
وقت پر داغ محبت ہی مِرے کام آیا
مجھ سے پرسس کی نکیرین کو جرأت نہ ہوئی
آپ کے پردے نے جب آپ کی صورت لے لی
یوں بھی کیا فاش پس پردہ حقیقت نہ ہوئی
دیکھنا شوخیٔ تہمت ایک وہ فرماتے کوئی
کیا خموشی بھی تِری حسن شکایت نہ ہوئی
کل کا غم کیوں ہو کہ ہوں آپ کا پامال خرام
کیا مِرے سامنے سو بار قیامت نہ ہوئی
بے کسی تیرے سوا کس نے مِرا ساتھ دیا
کوئی ڈھارس بھی شریک غم غربت نہ ہوئی
آ گیا کام کسی وقت کا مرنا کامل
مجھ تک آنے کی مِری موت کو زحمت نہ ہوئی
کامل شطاری
No comments:
Post a Comment