Friday, 7 January 2022

منظروں کی بھیڑ ایسی تو کبھی دیکھی نہ تھی

 منظروں کی بھیڑ ایسی تو کبھی دیکھی نہ تھی

گاؤں اچھا تھا مگر اس میں کوئی لڑکی نہ تھی

روح کے اندر خلا ہے، یہ مجھے معلوم تھا

کھوکھلا ہے جسم بھی اس کی خبر پہنچی نہ تھی

ہاتھ تھاما ہے سدا کے واسطے ویسے، مگر

ساتھ اس کا چھوڑنے میں کچھ برائی بھی نہ تھی

ان دنوں بھی درد کا سایہ مِرے ہمراہ تھا

جب دھواں بن کر وہ میرے ذہن پر چھائی نہ تھی

جذب ہو جانے کا قصہ خود سے بھی منسوب کر

بھول میری تھی اگر تو بھی کوئی دیوی نہ تھی

رنگ پکا ہو چلا تھا یاد آتا ہے، مگر

دھوپ میرے جسم پر تب ٹھیک سے بھیگی نہ تھی

خواہشوں کا وہ جزیرہ بھی تو آخر بہہ گیا

خوف و خطرہ کی جہاں پر کوئی آبادی نہ تھی


کامل اختر

No comments:

Post a Comment