دُکھے دل کی تسلی تم سے اتنا کر لیا کرتے
تمہیں، ہم دیکھ کر آزار ہَلکا کر لیا کرتے
خدا توفیق دیتا تو بچھڑ کر مل ہی جاتے ہم
تمہارے ساتھ رہنے کی تمنا کر لیا کرتے
جِنہیں ہم نے بِٹھا رکھا تھا سر آنکھوں پہ چاہت سے
دیا تھا دِل اگر تو، وعدہ ایفا کر لیا کرتے
تمہارے اپنے سینے کا یہ دل ہی بے وفا نکلا
ارادہ اپنا بھی ایسا خدارا کر لیا کرتے
نہیں منظور تھا قسمت کو ایسا کس لیے ہو گا
تمہاری زلف میں اپنا بسیرا کر لیا کرتے
تمہاری کیا ضرورت تھی ہمیں مجبور تھے شاید
رفو ہم چاک دامن کا تو تنہا کر لیا کرتے
اڑاتے ہی چلے آئے سبھی کے ہوش وہ انجم
کبھی تو ان کے پاس آ کر مداوا کر لیا کرتے
فریدہ انجم
No comments:
Post a Comment