واپس گھر جا ختم ہوا
کھیل تماشا ختم ہوا
پیچھے مڑ کر کیا دیکھو
جو پیچھے تھا ختم ہوا
دھیرے دھیرے درد اٹھا
رفتہ رفتہ ختم ہوا
واپس گھر جا ختم ہوا
کھیل تماشا ختم ہوا
پیچھے مڑ کر کیا دیکھو
جو پیچھے تھا ختم ہوا
دھیرے دھیرے درد اٹھا
رفتہ رفتہ ختم ہوا
شدت کرب سے کراہ اٹھا
جب اٹھا درد بے پناہ اٹھا
میرے آگے چلا نہ زور طلسم
میرے پیچھے غبار راہ اٹھا
بے سبب رات بھر چراغ جلے
میں دھواں بن کے خواہ مخواہ اٹھا
ہر قدم سانپوں🐍 کی آہٹ اور میں
آگے پیچھے سرسراہٹ، اور میں
اک طرف چڑھتے ہوئے دریا کی سانس
اک طرف جنگل کی آہٹ اور میں
گاؤں کی پگڈنڈیوں سے شہر تک
چہرہ چہرہ بوکھلاہٹ اور میں
وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک
دھواں ہی اٹھتا رہا شمع کے پگھلنے تک
کسے نصیب ہوئی اس کے جسم کی خوشبو
وہ میرے ساتھ رہا راستہ بدلنے تک
اگر چراغ کی لو پر زبان رکھ دیتا
زبان جلتی بھی کب تک چراغ جلنے تک
اس کا نیزہ تھا اور مِرا سر تھا
اور اک خوش گوار منظر تھا
کتنی آنکھوں سے ہو کے گزرا وہ
اک تماشہ جو صرف پل بھر تھا
دل کے رشتوں کی بات کرتے ہو
ایک شیشہ تھا ایک پتھر تھا