Showing posts with label شاہدہ مجید. Show all posts
Showing posts with label شاہدہ مجید. Show all posts

Wednesday, 2 February 2022

قصور فہم کا تھا بات تھی بصارت کی

 قصور فہم کا تھا، بات تھی بصارت کی

کہ جب بھی دیکھا نظر ڈال دی حقارت کی

یوں ایک مُہرے میں شہ مات دے گیا مجھ کو

کہ داد دے بھی نہ پائی تجھے مہارت کی

وہ آرزوئے وصالِ صنم وہ تشنہ لبی

ملا نہ تو تِری تصویر کی زیارت کی

Monday, 27 September 2021

مری دھڑکنوں کو اچھال کر

 مِری دھڑکنوں کو اچھال کر

اے فشارِ خون! دھمال کر 

کہ جو دیکھے سنگ اچھال دے 

اے جنون! میرا وہ حال کر 

مجھے کچھ تو میری خبر ملے 

مجھے مجھ میں تھوڑا بحال کر 

Monday, 10 May 2021

محبت میں کمی آنے لگی ہے

 محبت میں کمی آنے لگی ہے

اسے مصروفیت کھانے لگی ہے

ابھی تم تھے اُجالا تھا مگر اب

اچانک تیرگی چھانے لگی ہے

سکوں ملنے لگا ہے اب جنوں سے

مِری وحشت مجھے بھانے لگی ہے

Monday, 26 April 2021

دل کی آغوش میں پل کر جو جواں ہوتا ہے

 دل کی آغوش میں پل کر جو جواں ہوتا ہے

کب بھلا درد وہ لفظوں میں بیاں ہوتا ہے

چلمنوں میں اسے پلکوں کی چھپا کر رکھنا

جو نہاں دل میں ہو آنکھوں سے عیاں ہوتا ہے

رائیگاں ہے جو تِرے بعد گزاری میں نے

کیا تجھے بھی یہی احساس زیاں ہوتا ہے؟

Monday, 19 April 2021

مرے آنگن کی مٹی کی سماعت بھی

 مِرے آنگن کی مٹی کی سماعت بھی

تمہاری ایک آہٹ کے لیے کب سے ترستی ہے

دریچوں کی کھُلی آنکھوں سے

اک حسرت ٹپکتی ہے

محبت کا کوئی نغمہ ہوا جب گُنگناتی ہے

تمہاری یاد کی خُوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے

Friday, 16 April 2021

دے رہا ہے ثمر اداسی کا

 دے رہا ہے ثمر اداسی کا 

میرے دل میں شجر اداسی کا 

پورے تن کو بنا کے مٹی سے 

دل بنایا مگر اداسی کا 

مجھ سے اک بار تو سبب پوچھو

اے مِرے بے خبر اداسی کا

تو ساحر ہے رنگریز ہے یا جادوگر

 تُو ساحر ہے، رنگریز ہے یا جادوگر

یہ طلسم کدہ ہے، یا خواب نگر

ششدر ہوں

کہ یہ میں ہوں

یا مجھ میں کوئی اور آن بسا ہے

سوچ رہی ہوں

Thursday, 15 April 2021

ہجر کے اندهیروں میں چاند بن کے چمکیں گے

 ہجر کے اندهیروں میں چاند بن کے چمکیں گے

ذہن کے دریچوں میں کچھ خیال رکهے ہیں

کانچ ٹوٹے خوابوں کے اک بیاض یادوں کی

اک دراز میں ہم نے سب سنبهال رکهے ہیں

ڈوبنے نہیں دیتا تیرا غم ہمیں، ورنہ

بے حسی کی دلدل میں پاؤں ڈال رکهے ہیں