قصور فہم کا تھا، بات تھی بصارت کی
کہ جب بھی دیکھا نظر ڈال دی حقارت کی
یوں ایک مُہرے میں شہ مات دے گیا مجھ کو
کہ داد دے بھی نہ پائی تجھے مہارت کی
وہ آرزوئے وصالِ صنم وہ تشنہ لبی
ملا نہ تو تِری تصویر کی زیارت کی
قصور فہم کا تھا، بات تھی بصارت کی
کہ جب بھی دیکھا نظر ڈال دی حقارت کی
یوں ایک مُہرے میں شہ مات دے گیا مجھ کو
کہ داد دے بھی نہ پائی تجھے مہارت کی
وہ آرزوئے وصالِ صنم وہ تشنہ لبی
ملا نہ تو تِری تصویر کی زیارت کی
مِری دھڑکنوں کو اچھال کر
اے فشارِ خون! دھمال کر
کہ جو دیکھے سنگ اچھال دے
اے جنون! میرا وہ حال کر
مجھے کچھ تو میری خبر ملے
مجھے مجھ میں تھوڑا بحال کر
محبت میں کمی آنے لگی ہے
اسے مصروفیت کھانے لگی ہے
ابھی تم تھے اُجالا تھا مگر اب
اچانک تیرگی چھانے لگی ہے
سکوں ملنے لگا ہے اب جنوں سے
مِری وحشت مجھے بھانے لگی ہے
دل کی آغوش میں پل کر جو جواں ہوتا ہے
کب بھلا درد وہ لفظوں میں بیاں ہوتا ہے
چلمنوں میں اسے پلکوں کی چھپا کر رکھنا
جو نہاں دل میں ہو آنکھوں سے عیاں ہوتا ہے
رائیگاں ہے جو تِرے بعد گزاری میں نے
کیا تجھے بھی یہی احساس زیاں ہوتا ہے؟
مِرے آنگن کی مٹی کی سماعت بھی
تمہاری ایک آہٹ کے لیے کب سے ترستی ہے
دریچوں کی کھُلی آنکھوں سے
اک حسرت ٹپکتی ہے
محبت کا کوئی نغمہ ہوا جب گُنگناتی ہے
تمہاری یاد کی خُوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے
دے رہا ہے ثمر اداسی کا
میرے دل میں شجر اداسی کا
پورے تن کو بنا کے مٹی سے
دل بنایا مگر اداسی کا
مجھ سے اک بار تو سبب پوچھو
اے مِرے بے خبر اداسی کا
تُو ساحر ہے، رنگریز ہے یا جادوگر
یہ طلسم کدہ ہے، یا خواب نگر
ششدر ہوں
کہ یہ میں ہوں
یا مجھ میں کوئی اور آن بسا ہے
سوچ رہی ہوں
ہجر کے اندهیروں میں چاند بن کے چمکیں گے
ذہن کے دریچوں میں کچھ خیال رکهے ہیں
کانچ ٹوٹے خوابوں کے اک بیاض یادوں کی
اک دراز میں ہم نے سب سنبهال رکهے ہیں
ڈوبنے نہیں دیتا تیرا غم ہمیں، ورنہ
بے حسی کی دلدل میں پاؤں ڈال رکهے ہیں