محبت میں کمی آنے لگی ہے
اسے مصروفیت کھانے لگی ہے
ابھی تم تھے اُجالا تھا مگر اب
اچانک تیرگی چھانے لگی ہے
سکوں ملنے لگا ہے اب جنوں سے
مِری وحشت مجھے بھانے لگی ہے
دلوں کو ڈس رہی ہے بد گمانی
یہ ناگن زہر پھیلانے لگی ہے
سہیلی ہے مِری برسوں پرانی
اُداسی مجھ کو خوش آنے لگی ہے
عجب سی دل میں چنگاری دبی تھی
جسے برسات بھڑکانے لگی ہے
شاہدہ مجید
No comments:
Post a Comment