خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا
زندگی کا زہر ورنہ اس قدر کڑوا نہ تھا
اس نے تنہائی سے گھبرا کر پکارا تو نہیں
اس سے پہلے تو مِرا دل اس طرح دھڑکا نہ تھا
ہائے وہ عالم کہ ان کی بزم میں بھی بیٹھ کر
میں یہی سوچا کیا؛ میں تو کبھی تنہا نہ تھا
خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا
زندگی کا زہر ورنہ اس قدر کڑوا نہ تھا
اس نے تنہائی سے گھبرا کر پکارا تو نہیں
اس سے پہلے تو مِرا دل اس طرح دھڑکا نہ تھا
ہائے وہ عالم کہ ان کی بزم میں بھی بیٹھ کر
میں یہی سوچا کیا؛ میں تو کبھی تنہا نہ تھا
کبھی ملی جو تِرے درد کی نوا مجھ کو
خموشیوں نے مجھی سے کیا جدا مجھ کو
بدن کے سونے کھنڈر میں کبھی جلا مجھ کو
میں تیری روح کی ضو ہوں نہ یوں بجھا مجھ کو
میں اپنی ذات کی ہمسائیگی سے ڈرتا ہوں
مِرے قریب خدا کے لیے نہ لا مجھ کو
کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے
پت جھڑ میں تو پات کو آخر جھڑنا پڑتا ہے
کب تک اوروں کے سانچے میں ڈھلتے جائیں گے
کسی جگہ تو ہم کو آخر اڑنا پڑتا ہے
صرف اندھیرے ہی سے دِیے کی جنگ نہیں ہوتی
تیز ہواؤں سے بھی اس کو لڑنا پڑتا ہے
میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے
پھر کس کا نام ہے جو تِرے در پہ نقش ہے
پھینکا تھا ہم پہ جو کبھی اس کو اٹھا کے دیکھ
جو کچھ لہو میں تھا، اسی پتھر پہ نقش ہے
شاید ادھر سے گزرا ہے اک بار تو کبھی
تیری نظر کا لمس جو منظر پہ نقش ہے
میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں
سبھی یہ سوچ رہے ہیں کہ مرنے والا ہوں
کسی کی یاد کا مہتاب ڈوبنے کو ہے
میں پھر سے شب کی تہوں میں اترنے والا ہوں
سمیٹ لو مجھے اپنی صدا کے حلقوں میں
میں خامشی کی ہوا سے بکھرنے والا ہوں
اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا
میرے اندر جو نہ تھا اس کو بیاں میں نے کیا
سر پہ جب سایہ رہا کوئی نہ دورانِ سفر
اس کی یادوں کو پھر اپنا سائباں میں نے کیا
اب یہاں پر سانس تک لینا مجھے دشوار ہے
کس تمنا پر زمیں کو آسماں میں نے کیا
ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا
مگر وہ کیا تھا جو صحرائے دل کے اندر تھا
اسی کو زلف میں ٹانکے یہ آرزو کیوں کر
وہ پھول جو کہ تِری دسترس سے باہر تھا
وہ وقت آئے گا جب خود تمہی یہ سوچو گی
ملا نہ ہوتا اگر تجھ سے میں تو بہتر تھا
روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا
کچھ دِیے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا
جس نے میرا ساتھ چھوڑا اور کسی کا ہو گیا
سچ تو یہ ہے مجھ سے بھی بڑھ کر وہ تنہا ہو گیا
وقت کا یہ موڑ کیسا ہے کہ تجھ سے مل کے بھی
تجھ کو کھو دینے کا غم کچھ اور گہرا ہو گیا
آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا
تجھ سے بچھڑا ہوں تو خود سے مل لیا اچھا ہوا
زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ایسا ہوا
مدتوں ہم پر نہ تیری یاد کا سایا ہوا
دل سے شاید تیرا غم بھی اب جدا ہونے کو ہے
پھر رہا ہوں ان دنوں خود سے بھی میں الجھا ہوا
تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے
مگر جو دور کٹے تم سے زندگی کیا ہے
جب اٹھ کے چل دئیے تم، تیرگی اُمڈ آئی
جو تم نہ ہو تو چراغوں کی روشنی کیا ہے
کچھ ایسے پھول بھی گزرے ہیں میری نظروں سے
جو کھِل کے بھی نہ سمجھ پائے زندگی کیا ہے
بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا
مگر سایا ہمارے سر پہ گزری ساعتوں کا تھا
سروں پہ ہاتھ اپنے گھر کی بوسیدہ چھتوں کا تھا
مگر محفوظ سا منظر ہمارے آنگنوں کا تھا
کسی بھی سیدھے رستے کا سفر ملتا اسے کیوں کر
کہ وہ مسدود خود اپنے بنائے دائروں کا تھا
ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا
ایک دن میں بھی زمیں پر آسماں ہو جاؤں گا
ریزہ ریزہ ڈھلتا جاتا ہوں میں حرف و صوت میں
رفتہ رفتہ اک نہ اک دن میں بیاں ہو جاؤں گا
تم بلاؤ گے تو آئے گی صدائے بازگشت
وہ بھی دن آئے گا جب سُونا مکاں ہو جاؤں گا
ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں
کوئی تو مجھ سے بڑا ہے مجھ میں
انکساری مِرا شیوہ ہے، مگر
اک ذرا زعمِ انا ہے مجھ میں
مجھ سے وہ کیسے بڑا ہے کہیے
جب خدا میرا چھپا ہے مجھ میں
کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو
خموشیوں نے مجھی سے کیا جدا مجھ کو
بدن کے سُونے کھنڈر میں کبھی جلا مجھ کو
میں تیری روح کی ضو ہوں نہ یوں بجھا مجھ کو
میں اپنی ذات کی ہمسائیگی سے ڈرتا ہوں
مرے قریب خدا کے لیے نہ لا مجھ کو
عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر
پرورش پائی ہے اپنے خون ہی کی دھار پر
چاہنے والے کی اک غلطی سے برہم ہو گیا
فخر تھا کتنا اسے خود پیار کے معیار پر
رات گہری میری تنہائی کا ساگر اور پھر
تیری یادوں کے سلگتے دیپ ہر منجدھار پر