Showing posts with label آزاد گلاٹی. Show all posts
Showing posts with label آزاد گلاٹی. Show all posts

Sunday, 2 April 2023

خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا

 خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا 

زندگی کا زہر ورنہ اس قدر کڑوا نہ تھا 

اس نے تنہائی سے گھبرا کر پکارا تو نہیں 

اس سے پہلے تو مِرا دل اس طرح دھڑکا نہ تھا 

ہائے وہ عالم کہ ان کی بزم میں بھی بیٹھ کر 

میں یہی سوچا کیا؛ میں تو کبھی تنہا نہ تھا 

Monday, 31 October 2022

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

 کبھی ملی جو تِرے درد کی نوا مجھ کو

خموشیوں نے مجھی سے کیا جدا مجھ کو

بدن کے سونے کھنڈر میں کبھی جلا مجھ کو

میں تیری روح کی ضو ہوں نہ یوں بجھا مجھ کو

میں اپنی ذات کی ہمسائیگی سے ڈرتا ہوں

مِرے قریب خدا کے لیے نہ لا مجھ کو

Friday, 7 May 2021

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے

 کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے

پت جھڑ میں تو پات کو آخر جھڑنا پڑتا ہے

کب تک اوروں کے سانچے میں ڈھلتے جائیں گے

کسی جگہ تو ہم کو آخر اڑنا پڑتا ہے

صرف اندھیرے ہی سے دِیے کی جنگ نہیں ہوتی

تیز ہواؤں سے بھی اس کو لڑنا پڑتا ہے

Friday, 22 January 2021

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

 میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

پھر کس کا نام ہے جو تِرے در پہ نقش ہے

پھینکا تھا ہم پہ جو کبھی اس کو اٹھا کے دیکھ

جو کچھ لہو میں تھا، اسی پتھر پہ نقش ہے

شاید ادھر سے گزرا ہے اک بار تو کبھی

تیری نظر کا لمس جو منظر پہ نقش ہے

Sunday, 10 January 2021

میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

 میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

سبھی یہ سوچ رہے ہیں کہ مرنے والا ہوں

کسی کی یاد کا مہتاب ڈوبنے کو ہے

میں پھر سے شب کی تہوں میں اترنے والا ہوں

سمیٹ لو مجھے اپنی صدا کے حلقوں میں

میں خامشی کی ہوا سے بکھرنے والا ہوں

Saturday, 9 January 2021

اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا

 اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا

میرے اندر جو نہ تھا اس کو بیاں میں نے کیا

سر پہ جب سایہ رہا کوئی نہ دورانِ سفر

اس کی یادوں کو پھر اپنا سائباں میں نے کیا

اب یہاں پر سانس تک لینا مجھے دشوار ہے

کس تمنا پر زمیں کو آسماں میں نے کیا

Wednesday, 6 January 2021

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

 ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

مگر وہ کیا تھا جو صحرائے دل کے اندر تھا

اسی کو زلف میں ٹانکے یہ آرزو کیوں کر

وہ پھول جو کہ تِری دسترس سے باہر تھا

وہ وقت آئے گا جب خود تمہی یہ سوچو گی

ملا نہ ہوتا اگر تجھ سے میں تو بہتر تھا

Tuesday, 5 January 2021

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

 روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

کچھ دِیے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا

جس نے میرا ساتھ چھوڑا اور کسی کا ہو گیا

سچ تو یہ ہے مجھ سے بھی بڑھ کر وہ تنہا ہو گیا

وقت کا یہ موڑ کیسا ہے کہ تجھ سے مل کے بھی

تجھ کو کھو دینے کا غم کچھ اور گہرا ہو گیا

Sunday, 3 January 2021

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

 آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

تجھ سے بچھڑا ہوں تو خود سے مل لیا اچھا ہوا

زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ایسا ہوا

مدتوں ہم پر نہ تیری یاد کا سایا ہوا

دل سے شاید تیرا غم بھی اب جدا ہونے کو ہے

پھر رہا ہوں ان دنوں خود سے بھی میں الجھا ہوا

Friday, 1 January 2021

تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے

 تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے

مگر جو دور کٹے تم سے زندگی کیا ہے

جب اٹھ کے چل دئیے تم، تیرگی اُمڈ آئی

جو تم نہ ہو تو چراغوں کی روشنی کیا ہے

کچھ ایسے پھول بھی گزرے ہیں میری نظروں سے

جو کھِل کے بھی نہ سمجھ پائے زندگی کیا ہے

Tuesday, 15 December 2020

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

 بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

مگر سایا ہمارے سر پہ گزری ساعتوں کا تھا

سروں پہ ہاتھ اپنے گھر کی بوسیدہ چھتوں کا تھا

مگر محفوظ سا منظر ہمارے آنگنوں کا تھا

کسی بھی سیدھے رستے کا سفر ملتا اسے کیوں کر

کہ وہ مسدود خود اپنے بنائے دائروں کا تھا

Monday, 14 December 2020

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا

 ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا

ایک دن میں بھی زمیں پر آسماں ہو جاؤں گا

ریزہ ریزہ ڈھلتا جاتا ہوں میں حرف و صوت میں

رفتہ رفتہ اک نہ اک دن میں بیاں ہو جاؤں گا

تم بلاؤ گے تو آئے گی صدائے بازگشت

وہ بھی دن آئے گا جب سُونا مکاں ہو جاؤں گا

Sunday, 13 December 2020

ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں

 ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں

کوئی تو مجھ سے بڑا ہے مجھ میں

انکساری مِرا شیوہ ہے، مگر

اک ذرا زعمِ انا ہے مجھ میں

مجھ سے وہ کیسے بڑا ہے کہیے

جب خدا میرا چھپا ہے مجھ میں

Friday, 20 November 2020

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

 کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

خموشیوں نے مجھی سے کیا جدا مجھ کو

بدن کے سُونے کھنڈر میں کبھی جلا مجھ کو

میں تیری روح کی ضو ہوں نہ یوں بجھا مجھ کو

میں اپنی ذات کی ہمسائیگی سے ڈرتا ہوں

مرے قریب خدا کے لیے نہ لا مجھ کو

Thursday, 12 November 2020

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

 عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

پرورش پائی ہے اپنے خون ہی کی دھار پر

چاہنے والے کی اک غلطی سے برہم ہو گیا

فخر تھا کتنا اسے خود پیار کے معیار پر

رات گہری میری تنہائی کا ساگر اور پھر

تیری یادوں کے سلگتے دیپ ہر منجدھار پر