Wednesday, 6 January 2021

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

 ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

مگر وہ کیا تھا جو صحرائے دل کے اندر تھا

اسی کو زلف میں ٹانکے یہ آرزو کیوں کر

وہ پھول جو کہ تِری دسترس سے باہر تھا

وہ وقت آئے گا جب خود تمہی یہ سوچو گی

ملا نہ ہوتا اگر تجھ سے میں تو بہتر تھا

ہر ایک انگ لبالب بھرا ہو جیسے جام

تمہارا جسم تھا یا مے کدے کا منظر تھا

اسے بھی جاتے ہوئے تم نے مجھ سے چھین لیا

تمہارا غم تو مِری آرزو کا زیور تھا

بہت قریب سے دیکھا تھا اس کو اے آزاد

وہ آرزو کا مِری اک حسین پیکر تھا


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment