Wednesday, 6 January 2021

دور تک کہیں یارو زندگی نہیں ملتی

 کرفیو


خوف کے دریچوں سے جھانکتا ہے سناٹا

ہر مکان سہما ہے

کس قدر اندھیرا ہے، روشنی نہیں ملتی

دور تک کہیں یارو! زندگی نہیں ملتی


مختار شمیم

No comments:

Post a Comment