Wednesday, 6 January 2021

قید کرتا ہے نہ آزاد بڑی الجھن ہے

 قید کرتا ہے نہ آزاد، بڑی اُلجھن ہے

چاہتا کیا ہے تُو صیّاد بڑی الجھن ہے

اپنی آنکھوں کو میں کس نیزے پہ رکھ دوں جا کر 

ریت پر رکھنی ہے بنیاد بڑی الجھن ہے

اپنی غزلوں کا بدن کس کے حوالے کر دوں

سب میں موجود ہے نقاد بڑی الجھن ہے

دل کی تعمیر ادھوری ہے کئی صدیوں  سے

کوئی کرتا نہیں امداد، بڑی الجھن ہے

جسم کا بوجھ زمینوں میں نہ رکھ پاؤ گے

لوگ پہلے سے ہیں آباد بڑی الجھن ہے  

پھر سے آثار قیامت کے بنے ہیں مجھ میں

پھر سے تم آنے لگے یاد بڑی الجھن ہے

کھینچ لایا ہے مجھے عشق عجب منزل پر

لکھی جاتی نہیں روداد بڑی الجھن ہے

نیند زخمی ہے میری آنکھ کے تہ خانوں میں

تیری جننت سے اے شداد بڑی الجھن ہے

غم ٹھہرتے ہیں یہاں، دل ہے مسافر خانہ

دل کو تم کہتے ہو دلشاد، بڑی الجھن ہے


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment