قدیم پیڑ نئی خاک سے اگایا گیا
پرانا عشق نئے جسم سے کمایا گیا
مجھے فصیل کی جرأت کو داد دینا پڑی
گھڑی کا بوجھ کلائی پہ جب اٹھایا گیا
ہماری نیند سفینے سے اٹھ گئی لیکن
تمہارے خواب کا لنگر نہیں اٹھایا گیا
ہم الٹی سمت سے واپس مڑے تھے اپنی طرف
ہمیں وجود کا رستہ غلط بتایا گیا
سو اس سفر میں پڑاؤ مجھے خسارا ہے
سمے کا قحط مِرے بیگ میں چھپایا گیا
چھڑی ہوئی تھی کہانی پرانے پیڑوں کی
جب ایک رات الاؤ🔥 بہت جلایا گیا
منیر جعفری
No comments:
Post a Comment