Tuesday, 5 January 2021

قدیم پیڑ نئی خاک سے اگایا گیا

 قدیم پیڑ نئی خاک سے اگایا گیا

پرانا عشق نئے جسم سے کمایا گیا

مجھے فصیل کی جرأت کو داد دینا پڑی

گھڑی کا بوجھ کلائی پہ جب اٹھایا گیا

ہماری نیند سفینے سے اٹھ گئی لیکن

تمہارے خواب کا لنگر نہیں اٹھایا گیا

ہم الٹی سمت سے واپس مڑے تھے اپنی طرف

ہمیں وجود کا رستہ غلط بتایا گیا

سو اس سفر میں پڑاؤ مجھے خسارا ہے

سمے کا قحط مِرے بیگ میں چھپایا گیا

چھڑی ہوئی تھی کہانی پرانے پیڑوں کی

جب ایک رات الاؤ🔥 بہت جلایا گیا


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment