Tuesday, 5 January 2021

میں نہیں جانتا کہ کیا تھا میں

 میں نہیں جانتا کہ کیا تھا میں

راہزن تھا کہ بادشہ تھا میں

مجھ کو رستوں نے بھی دعا دی تھی

تیری جانب کہ جب چلا تھا میں

ایک سجدہ بدل گیا مجھ کو

اس سے پہلے بہت برا تھا میں

جانتا ہوں مجھے محبت تھی

جانتا ہوں فقط تِرا تھا میں

سامنے شخص رو رہا تھا میرے

آئینہ دیکھ کر ہنسا تھا میں

مجھ میں آباد تھی کوئی دنیا

ایسے لگتا تھا اک خلا تھا میں

داؤد اب یاد بھی نہیں ہوں انہیں

جن کی خاطر نیا بَنا تھا میں

مجھ کو یوں چھوڑ کر گیا داؤد

جیسے کوئی بڑا گُنہ تھا میں


داؤد سید

No comments:

Post a Comment