میں نہیں جانتا کہ کیا تھا میں
راہزن تھا کہ بادشہ تھا میں
مجھ کو رستوں نے بھی دعا دی تھی
تیری جانب کہ جب چلا تھا میں
ایک سجدہ بدل گیا مجھ کو
اس سے پہلے بہت برا تھا میں
جانتا ہوں مجھے محبت تھی
جانتا ہوں فقط تِرا تھا میں
سامنے شخص رو رہا تھا میرے
آئینہ دیکھ کر ہنسا تھا میں
مجھ میں آباد تھی کوئی دنیا
ایسے لگتا تھا اک خلا تھا میں
داؤد اب یاد بھی نہیں ہوں انہیں
جن کی خاطر نیا بَنا تھا میں
مجھ کو یوں چھوڑ کر گیا داؤد
جیسے کوئی بڑا گُنہ تھا میں
داؤد سید
No comments:
Post a Comment