کبھی دوستی کی باتیں کبھی دشمنی کی باتیں
وہی زندگی ہے یارو! وہی زندگی کی باتیں
وہی رہبروں کے جمگھٹ وہی بھیڑ رہزنوں کی
وہی کارواں ہیں غم کے، وہی گمرہی کی باتیں
کبھی چھیڑ اے مغنی! کوئی کیف زا ترانہ
میں ازل سے سن رہا ہوں غمِ عاشقی کی باتیں
کبھی دوستی کی باتیں کبھی دشمنی کی باتیں
وہی زندگی ہے یارو! وہی زندگی کی باتیں
وہی رہبروں کے جمگھٹ وہی بھیڑ رہزنوں کی
وہی کارواں ہیں غم کے، وہی گمرہی کی باتیں
کبھی چھیڑ اے مغنی! کوئی کیف زا ترانہ
میں ازل سے سن رہا ہوں غمِ عاشقی کی باتیں
ہیں مقدر میں ابھی کرب کے منظر کتنے
اور اتریں گے ابھی سینے میں خنجر کتنے
کیا خبر دور ابھی اور ہے کتنی منزل؟
کیا بتائیں، ہیں ابھی پاؤں میں چکر کتنے
شیش محلوں سے شب و روز گزرنے والو
ان پہ مارو گے ابھی تان کے پتھر کتنے
ہر دل کے آس پاس ہے اک غم چھپا ہوا
ہر پھُول کے قریب ہے کانٹا اُگا ہوا ہوا
اب دوستی کریں بھی تو کیا زندگی کے ساتھ
ہر دم اسے ہے موت کا کھٹکا لگا ہوا
یوں دل میں رہ گئی ہے کسی بے وفا کی یاد
رہ جائے جیسے گھر میں کوئی در کُھلا ہوا
کسی نے با وفا سمجھا، کسی نے بے وفا سمجھا
مجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھا
غم پیہم ہوئی ثابت جسے میں نے بقا سمجھا
حیاتِ جاوِداں نکلی جسے میں نے قضا سمجھا
غلط سمجھا زمانے میں تجھے درد آشنا سمجھا
مِری نظروں کا دھوکا تھا میں پتھر کو خدا سمجھا