Showing posts with label ڈی راج کنول. Show all posts
Showing posts with label ڈی راج کنول. Show all posts

Thursday, 17 April 2025

کبھی دوستی کی باتیں کبھی دشمنی کی باتیں

 کبھی دوستی کی باتیں کبھی دشمنی کی باتیں

وہی زندگی ہے یارو! وہی زندگی کی باتیں

وہی رہبروں کے جمگھٹ وہی بھیڑ رہزنوں کی

وہی کارواں ہیں غم کے، وہی گمرہی کی باتیں

کبھی چھیڑ اے مغنی! کوئی کیف زا ترانہ

میں ازل سے سن رہا ہوں غمِ عاشقی کی باتیں

Thursday, 9 January 2025

ہیں مقدر میں ابھی کرب کے منظر کتنے

 ہیں مقدر میں ابھی کرب کے منظر کتنے

اور اتریں گے ابھی سینے میں خنجر کتنے

کیا خبر دور ابھی اور ہے کتنی منزل؟

کیا بتائیں، ہیں ابھی پاؤں میں چکر کتنے

شیش محلوں سے شب و روز گزرنے والو

ان پہ مارو گے ابھی تان کے پتھر کتنے

Wednesday, 8 January 2025

ہر دل کے آس پاس ہے اک غم چھپا ہوا

 ہر دل کے آس پاس ہے اک غم چھپا ہوا

ہر پھُول کے قریب ہے کانٹا اُگا ہوا ہوا

اب دوستی کریں بھی تو کیا زندگی کے ساتھ

ہر دم اسے ہے موت کا کھٹکا لگا ہوا

یوں دل میں رہ گئی ہے کسی بے وفا کی یاد

رہ جائے جیسے گھر میں کوئی در کُھلا ہوا

Tuesday, 24 August 2021

کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھا

کسی نے با وفا سمجھا، کسی نے بے وفا سمجھا

مجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھا

غم پیہم ہوئی ثابت جسے میں نے بقا سمجھا

حیاتِ جاوِداں نکلی جسے میں نے قضا سمجھا

غلط سمجھا زمانے میں تجھے درد آشنا سمجھا

مِری نظروں کا دھوکا تھا میں پتھر کو خدا سمجھا