Monday, 1 June 2026

ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں

 ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں

اپنے حالات کو اچھی طرح ہم جانتے ہیں

ہم نے جانا ہے تجھے اپنی محبت کا خُدا

لوگ نادان ہیں پتھر کا صنم جانتے ہیں

تُو نے منہ پھیر لیا راہ میں ہم سے جب کہ

ہم تِری آنکھ کا جُھکنا بھی ستم جانتے ہیں

دل میں جو شُعلے بھڑکتے ہیں کہاں دیکھے ہیں

آپ تو بس مِری آنکھوں کو ہی نم جانتے ہیں

ڈُھونڈ پائیں نہیں خُوشیاں مِری چوکھٹ اب تک

ایک مُدت سے پتا میرا یہ غم جانتے ہیں


رضوان حیدر

No comments:

Post a Comment