Saturday, 27 June 2026

میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے

 میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے

تجھے جتنی دفعہ دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے

فقط کٹنے کو یوں بھی کٹ رہی ہے زندگی لیکن

وہی ہے زندگی جس پل تِرا دیدار ہوتا ہے

تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا

انہیں دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے

اگر ہے عشق سچا تو نگاہوں سے بیاں ہو گا

زباں سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے

کنارے بیٹھ کر کے کوئی بھی منزل نہیں پاتا

جو ٹکراتا ہے لہروں سے وہ دریا پار ہوتا ہے


بھاسکر شکلا 

No comments:

Post a Comment