میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے
تجھے جتنی دفعہ دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے
فقط کٹنے کو یوں بھی کٹ رہی ہے زندگی لیکن
وہی ہے زندگی جس پل تِرا دیدار ہوتا ہے
تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا
انہیں دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے
اگر ہے عشق سچا تو نگاہوں سے بیاں ہو گا
زباں سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے
کنارے بیٹھ کر کے کوئی بھی منزل نہیں پاتا
جو ٹکراتا ہے لہروں سے وہ دریا پار ہوتا ہے
بھاسکر شکلا
No comments:
Post a Comment