محبت کا یہ شیوہ ہے سرِ تسلیم خم کرنا
جسے دل میں بسانا ہو اسی کا ذکر کم کرنا
فراقِ یار میں رونا،۔ فغانِ دم بہ دم کرنا
رخِ جاناں کے ہر پرتو پہ میرا سر کو خم کرنا
عجب لگتا ہے اہلِ دید کو طرزِ عمل میرا
اک اس کی دید کی خاطر یہ آنکھیں جامِ جم کرنا
نواحِ جاں میں لاریب اک حکومت ہے تو تیری ہے
رگِ جاں کے قریں تُو ہے تو پھر کا ہے کا غم کرنا
پڑاؤ ہیں یہ سارے ایک ہی منزل کے گر سمجھو
خم و پیچِ سفر کو تم نقیبِ پیچ و خم کرنا
دلِ بے تاب جس لمحہ تجلی زار بن جائے
اناالحق کے دریچے میں حدیثِ کیف و کم کرنا
ادائے بے نیازی، شانِ محبوبی کا جلوہ ہے
محبت پاش نظارہ ہے ان کا ہر ستم کرنا
مصیبت اور راحت عشق کے رستے میں یکساں ہیں
اگر ہو خواہشِ راحت تو پھر آنکھوں کو نم کرنا
مقدر میں جو ہے اس پر غرور و ناز بے معنی
مقدر میں نہیں جو اس کا پھر کیا رنج و غم کرنا
جمیل آساں نہیں ہے دشتِ ہجراں سے گزر جانا
کسی آہو کی صورت دم بہ دم ، پیہم ہے رم کرنا
جمیل حیات
No comments:
Post a Comment