تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے
دل پہ جیسے کوئی چاندنی آتی ہے
میری ہر سانس تیرے خیالوں میں ہے
تجھ سے مل کر نئی زندگی آتی ہے
خامشی میں بھی گونجتی ہے صدا
جب تُو بولے،۔ تو بندگی آتی ہے
تُو جو ہنس دے تو سارا موسم کھلے
پھول مہکیں،۔ فضا دلکشی آتی ہے
تُو نہ ہو تو بہت بےرخی چھا جائے
تُو جو آئے، تو خود روشنی آتی ہے
کون کہتا ہے خوشبو کا چہرہ نہیں
تجھ کو دیکھوں تو خوشبو سی آتی ہے
یہ جمیل اپنے جذبوں کی دنیا میں ہے
تیرا ذکر آئے،۔ تو شاعری آتی ہے
جمیل اجمیری
No comments:
Post a Comment