Sunday, 28 June 2026

اہل وفا سے رابطہ جس وقت کٹ گیا

 اہلِ وفا سے رابطہ جس وقت کٹ گیا

میرا وجود بانہوں میں اپنی سمٹ گیا

جانے عجب خیال سے کل دھک سے رہ گیا

دستک دئیے بغیر میں در سے پلٹ گیا

جُگنو تمہاری یاد کے دل میں اُتر گئے

تاریک شہرِ دل کا جو منظر تھا چھٹ گیا

جس پر کبھی لِکھے تھے محبت کے چار حرف

اس کی مداخلت سے شجر وہ بھی کٹ گیا

میرے فشارِ خُون میں ہلچل مچی رہی

حسرت تمہارا ہِجر، مقابل جو ڈٹ گیا


بلال حسرت 

No comments:

Post a Comment