جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر
وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر
مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے
نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر
غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے
دلوں میں چراغِ محبت جلا کر
مسرّت کے گیتوں پہ سر دُھننے والے
کبھی غمزدوں کے تو نالے سُنا کر
یہ دُنیا تو یکسر ہے پُر خار بربط
یہاں سے گُزرنا ہے دامن بچا کر
بربط تونسوی
No comments:
Post a Comment