Monday, 29 June 2026

جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھپا کر

 جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر

وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر

مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے

نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر

غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے

دلوں میں چراغِ محبت جلا کر

مسرّت کے گیتوں پہ سر دُھننے والے

کبھی غمزدوں کے تو نالے سُنا کر

یہ دُنیا تو یکسر ہے پُر خار بربط

یہاں سے گُزرنا ہے دامن بچا کر


بربط تونسوی

No comments:

Post a Comment