حوصلے ان کے بھی بڑے ہوں گے
تیرے ہی در پہ جو پڑے ہوں گے
مُفلسی میں ہی جو بڑے ہوں گے
عید کے دن بھی گھر پڑے ہوں گے
جو تجھے پانے کو لڑے ہوں گے
وہ یقیناً کئی دھڑے ہوں گے
لے گئے تھے وہ ساتھ تعبیر یں
خواب گھر میں کہیں پڑے ہوں گے
صرف بچوں نے حادثہ دیکھا
بیشتر ان میں سے بڑے ہوں گے
پارسائی چُھپانے کی خاطر
شیخ بھی رِندوں میں پڑے ہوں گے
پھر سے آباد ہو گیا صادق
تُو نے ہی قِصے یہ گھڑے ہوں گے
جاوید صادق
No comments:
Post a Comment