Showing posts with label سلطان ناصر. Show all posts
Showing posts with label سلطان ناصر. Show all posts

Sunday, 17 September 2023

نقشِ پا محو ہو جائیں گے ‎تم سنو گے نہیں

 نقشِ پا محو ہو جائیں گے

‎تم سنو گے نہیں

‎کوئی آواز دیتا رہے گا، بہت دیر تم کو پکارا کرے گا

‎بالآخر صدا اس کے سینے میں جم جائے گی

‎اس کی آنکھوں کی بارش بھی اِک روز تھم جائے گی

‎تم سنو گے نہیں

Monday, 24 October 2022

کشمیر تمناؤں کا خون ہوتا رہا

 کشمیر


دیو مالائی جھرنوں

پرستانی جھیلوں

محبت کے گیتوں کی

مسحور کُن سرزمیں پر

تمناؤں کا خون ہوتا رہا

اور دنیا خموشی سے تکتی رہی

Friday, 14 October 2022

کیسی رات تھی کیسی صدیوں پر پھیلی تاریکی تھی

 جشن کا دن


کیسی رات تھی

کیسی صدیوں پر پھیلی تاریکی تھی

کسی رُودالی کے

بکھرے بالوں، بہتے کاجل سی رات تھی

غم کی چِتا میں

Sunday, 9 October 2022

اے ساقئ کوثر مہجور نہ کر مجھے دور نہ کر

 عارفانہ کلام نعتیہ نظم


حنانہ

(تمام احباب کو جشنِ مولود نبیﷺ مبارک ہو۔)


میں وقت کی بھٹی کا ایندھن

مقہور شجر

بے برگ و ثمر

Sunday, 24 April 2022

میں اک لامکانی نوا کے تعاقب میں

 دائرہ


میں اک لامکانی نوا کے تعاقب میں

کتنے مکانوں سے ہوتا ہوا 

پھر وہیں آ گیا ہوں

جہاں سے چلا تھا

کہ جیسے سمندر کا نمکین پانی

Wednesday, 2 March 2022

دائرہ وہیں آ گیا ہوں جہاں سے چلا تھا

دائرہ


میں اک لامکانی نوا کے تعاقب میں

کتنے مکانوں سے ہوتا ہوا 

پھر وہیں آ گیا ہوں

جہاں سے چلا تھا

کہ جیسے سمندر کا نمکین پانی

Tuesday, 24 August 2021

کیا تم نے بے چینی کا حلیہ دیکھا ہے

 بے چینی


کیا تم نے بے چینی کا حُلیہ دیکھا ہے

مکڑی کے جیسی ہوتی ہے

دیواروں پر جالے بُنتی رہتی ہے

بے ڈھبے جسم اور لمبی ٹانگوں والی مکڑی

صاف گھروں میں جانے کہاں سے گھس آتی ہے

دیکھتے دیکھتے اس کی ٹانگیں زیادہ لمبی ہو جاتی ہیں

Sunday, 1 August 2021

یہیں کہیں اک میل کے پتھر پر لکھا تھا چلتے جاؤ

 یہیں کہیں سے کہیں نہیں تک


یہیں کہیں اک میل کے پتھر پر لکھا تھا

چلتے جاؤ

کہیں نہیں بس چار دنوں کی دُوری پر ہے

کہیں نہیں کے نام میں کوئی عجب کشش تھی

جتنا چلتے پاؤں نہ تھکتے

ناک کی سیدھ اور کان کے ٹیڑھ میں چلتے چلتے

Friday, 30 July 2021

کیا تم کھل کر ہنس سکتے ہو

 ‏کیا تم ایسا کر سکتے ہو


‏کیا تم کُھل کر ہنس سکتے ہو

‏ایسے جیسے ان دیکھے جنگل کی ان دیکھی گھاٹی میں

‏پھول کِھلے اور کِھلتا جائے

‏اپنی خوشبو سے سرمست اور اپنے آپ سے بھرا ہوا

‏کیا تم نیر بہا سکتے ہو

‏ایسے جیسے بھادوں برکھا چھم چھم برسے، جل تھل کر دے

جیون گھاٹ پہ ہم اکتاہٹ کا کڑوا پانی پیتے ہیں

 کڑوا پانی


جیون گھاٹ پہ ہم اکتاہٹ کا کڑوا پانی پیتے ہیں

کیسا بڑا مکان ہے جس میں چلتے چلتے عمریں بیتیں

لیکن اس سے باہر تو کیا

دیواروں تک پہنچ نہ پائے

کیسا پھیلا ہُوا زمان ہے جس میں ہمارے

کالے قرنوں والے ہجر اور 

Thursday, 29 July 2021

اک دریدہ علم کی طرح پھڑپھڑاتی ہوئی

 کچھ سنا


اک دریدہ علم کی طرح 

پھڑپھڑاتی ہوئی خواب کی کپکپی سے نکل

اور حقیقت کے آتش کدے میں

دہکتے ہوئے سرخ انگار تاپ

اپنی آنکھوں کو مل، جاگ

دیکھ، اک زمانہ ہمہ تن توجہ

عمر کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں

 پڑاؤ


عمر کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں

بخت بھر میں تِری مسکراہٹ کی نم ٹھنڈی چھاؤں میں ٹھہرا

تو سمجھا یہاں سے کہیں اور جانا نہیں

سانس سیدھی نہ کی تھی، پسینہ سُکھایا نہ تھا

جب قضا نے مِرے بائیں شانے کو

چابک کے نشتر سے چھیلا

Tuesday, 24 November 2020

خواب پرندہ

 خواب پرندہ


رات کے پچھلے پہر

کسی انجانے دیس سے اڑتے اڑتے

آنکھوں کے سُونے جنگل میں گیت سنانے آ بیٹھا ہے

جب تڑکے کی تالی بجے گی

خواب پرندہ اڑ جائے گا