نقشِ پا محو ہو جائیں گے
تم سنو گے نہیں
کوئی آواز دیتا رہے گا، بہت دیر تم کو پکارا کرے گا
بالآخر صدا اس کے سینے میں جم جائے گی
اس کی آنکھوں کی بارش بھی اِک روز تھم جائے گی
تم سنو گے نہیں
نقشِ پا محو ہو جائیں گے
تم سنو گے نہیں
کوئی آواز دیتا رہے گا، بہت دیر تم کو پکارا کرے گا
بالآخر صدا اس کے سینے میں جم جائے گی
اس کی آنکھوں کی بارش بھی اِک روز تھم جائے گی
تم سنو گے نہیں
کشمیر
دیو مالائی جھرنوں
پرستانی جھیلوں
محبت کے گیتوں کی
مسحور کُن سرزمیں پر
تمناؤں کا خون ہوتا رہا
اور دنیا خموشی سے تکتی رہی
جشن کا دن
کیسی رات تھی
کیسی صدیوں پر پھیلی تاریکی تھی
کسی رُودالی کے
بکھرے بالوں، بہتے کاجل سی رات تھی
غم کی چِتا میں
عارفانہ کلام نعتیہ نظم
حنانہ
(تمام احباب کو جشنِ مولود نبیﷺ مبارک ہو۔)
میں وقت کی بھٹی کا ایندھن
مقہور شجر
بے برگ و ثمر
دائرہ
میں اک لامکانی نوا کے تعاقب میں
کتنے مکانوں سے ہوتا ہوا
پھر وہیں آ گیا ہوں
جہاں سے چلا تھا
کہ جیسے سمندر کا نمکین پانی
دائرہ
میں اک لامکانی نوا کے تعاقب میں
کتنے مکانوں سے ہوتا ہوا
پھر وہیں آ گیا ہوں
جہاں سے چلا تھا
کہ جیسے سمندر کا نمکین پانی
بے چینی
کیا تم نے بے چینی کا حُلیہ دیکھا ہے
مکڑی کے جیسی ہوتی ہے
دیواروں پر جالے بُنتی رہتی ہے
بے ڈھبے جسم اور لمبی ٹانگوں والی مکڑی
صاف گھروں میں جانے کہاں سے گھس آتی ہے
دیکھتے دیکھتے اس کی ٹانگیں زیادہ لمبی ہو جاتی ہیں
یہیں کہیں سے کہیں نہیں تک
یہیں کہیں اک میل کے پتھر پر لکھا تھا
چلتے جاؤ
کہیں نہیں بس چار دنوں کی دُوری پر ہے
کہیں نہیں کے نام میں کوئی عجب کشش تھی
جتنا چلتے پاؤں نہ تھکتے
ناک کی سیدھ اور کان کے ٹیڑھ میں چلتے چلتے
کیا تم ایسا کر سکتے ہو
کیا تم کُھل کر ہنس سکتے ہو
ایسے جیسے ان دیکھے جنگل کی ان دیکھی گھاٹی میں
پھول کِھلے اور کِھلتا جائے
اپنی خوشبو سے سرمست اور اپنے آپ سے بھرا ہوا
کیا تم نیر بہا سکتے ہو
ایسے جیسے بھادوں برکھا چھم چھم برسے، جل تھل کر دے
کڑوا پانی
جیون گھاٹ پہ ہم اکتاہٹ کا کڑوا پانی پیتے ہیں
کیسا بڑا مکان ہے جس میں چلتے چلتے عمریں بیتیں
لیکن اس سے باہر تو کیا
دیواروں تک پہنچ نہ پائے
کیسا پھیلا ہُوا زمان ہے جس میں ہمارے
کالے قرنوں والے ہجر اور
کچھ سنا
اک دریدہ علم کی طرح
پھڑپھڑاتی ہوئی خواب کی کپکپی سے نکل
اور حقیقت کے آتش کدے میں
دہکتے ہوئے سرخ انگار تاپ
اپنی آنکھوں کو مل، جاگ
دیکھ، اک زمانہ ہمہ تن توجہ
پڑاؤ
عمر کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں
بخت بھر میں تِری مسکراہٹ کی نم ٹھنڈی چھاؤں میں ٹھہرا
تو سمجھا یہاں سے کہیں اور جانا نہیں
سانس سیدھی نہ کی تھی، پسینہ سُکھایا نہ تھا
جب قضا نے مِرے بائیں شانے کو
چابک کے نشتر سے چھیلا
خواب پرندہ
رات کے پچھلے پہر
کسی انجانے دیس سے اڑتے اڑتے
آنکھوں کے سُونے جنگل میں گیت سنانے آ بیٹھا ہے
جب تڑکے کی تالی بجے گی
خواب پرندہ اڑ جائے گا