جشن کا دن
کیسی رات تھی
کیسی صدیوں پر پھیلی تاریکی تھی
کسی رُودالی کے
بکھرے بالوں، بہتے کاجل سی رات تھی
غم کی چِتا میں
ہم دونوں نے
زندہ خواب اور زندہ جذبے ڈال ڈال کر
شعلے سینچے
جن شعلوں میں روشنی کم تھی
تپش زیادہ
جیسے تیسے رات کٹی
اب اٹھو، آنکھیں کھولو، دیکھو
صبح ہوئی ہے
اور چِتا میں
اتنی کالک، اتنی راکھ پڑی ہے
جتنا ہم دونوں کا جیون بچا پڑا ہے
جشن کا دن ہے
اپنے ویرانے میں رنگ نہیں تو پھر کیا
آ تیرے دونوں گالوں پر
میں خوابوں کی راکھ ملوں
اور تُو میرے ماتھے پر
رات کی کالک مل دے
سلطان ناصر
No comments:
Post a Comment