مشکل سے راس آئیں تھیں دو چار ساعتیں
پھر بخت سے گلے رہے دامن میں حسرتیں
وہ جو مِری بساط سے باہر نہیں گیا
ایسے سخی سے عشق میں کیسی قباحتیں
جب درد میرے ضبط کی حد سے گزر گیا
میرے عدو نے چھوڑ دیں ساری عداوتیں
ہے جبر تجھ کو سوچنا میرے لئے، مگر
دل میں ترے خیال سے آتی ہیں وسعتیں
غافل رہا خیال سے گستاخ دل اگر
واجب ہیں نامراد پہ لمبی تلاوتیں
تیور بدل گئے ہیں محبت کے آج کل
حسب و نسب کو دیکھ کے ہوتی ہیں چاہتیں
اب عشق بھی غریب کی اوقات سے گیا
اب عشق ڈھونڈتا ہے زمانے کی راحتیں
ترکِ وفا کے واسطے اس کی دلیل تھی
اک اجنبی سے شخص کو کیسی وضاحتیں
ادنیٰ، حقیر جان کے پھیرے گا آنکھ وہ
غربت کے مارے شخص سے کیسی محبتیں
پھر جانے والے شخص کو آواز بھی نہ دی
اب جانے والے شخص کی کیسی سماجتیں
علی ساحر
No comments:
Post a Comment