Showing posts with label صابر جاذب. Show all posts
Showing posts with label صابر جاذب. Show all posts

Sunday, 31 December 2023

اعظم ہے تو عظیم ہے اے رب دوجہاں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اعظم ہے تُو عظیم ہے اے ربِ دو جہاں

عالم ہے تُو علیم ہے اے رب دو جہاں

ہم کیا ہیں صرف تیرے ارادے کا عکس ہیں

تُو مدرک فہیم ہے اے رب دو جہاں

دیتا ہے روز رزق بھی ہر اک جنین کو

تُو رازق کریم ہے اے رب دو جہاں

Friday, 2 December 2022

جو میری ہتھیلی پہ ہیں دوچار لکیریں

  جو میری ہتھیلی پہ ہیں دوچار لکیریں

اک عمر سے ہیں لاغر و بیمار لکیریں

کاغذ پہ ابھر آتا ہے موہوم سا چہرہ

یونہی تو نہیں کھینچتا فنکار لکیریں

اس طرح لگی ذہن پہ حالات کی ٹھوکر

ماتھے پہ ہوئیں سوچ کی بیدار لکیریں

Thursday, 20 October 2022

طائر جان کا اک روز یہ منظر دیکھوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


طائرِ جان کا اک روز یہ منظر دیکھوں

تیریؐ فرقت میں تڑپتا دلِ مضطر دیکھوں

تِرےﷺ اعجاز کا یہ ادنیٰ کرشمہ مولا

تِرےؐ ہاتھوں میں چہکتے ہوئے کنکر دیکھوں

تِرےؐ نکھرے ہوئے چہرے سے سجی قوسِ قزح

ہر طرح سے میں تجھے رنگ کا پیکر دیکھوں

Saturday, 10 September 2022

ہزار ظلم ہوئے راج باج کی خاطر

 ہزار ظلم ہوئے راج باج کی خاطر

ہزار قتل ہوئے تخت و تاج کی خاطر

کئی سروں کو اچھالا گیا ہے نیزوں پر

لہو کی ہولیاں کھیلیں رواج کی خاطر

چمن کے کان میں گونجی صبا کی نعرہ زنی

جلائیں مشعلیں اب احتجاج کی خاطر

Thursday, 3 March 2022

نہ آہ دل نہ ستارے نہ آسمان جلا

 نہ آہِ دل، نہ ستارے، نہ آسمان جلا

جو ہو سکے تو وفاؤں کا شمعدان جلا

دبیز سائے نہ حدت سے راکھ ہو جائیں

نہ کوئی سرس نہ برگد کا سائبان جلا

تمہارے پاس ہے سورج نئے ارادوں کا

کرن کرن سے اداسی کا ہر گمان جلا

Tuesday, 1 March 2022

بن گئے بازار کی زینت ثمر جتنے بھی تھے

 بن گئے بازار کی زینت ثمر جتنے بھی تھے

رفتہ رفتہ ہو گئے ویراں شجر جتنے بھی تھے

وقت کے فنکار ہاتھوں کی اداکاری بھی دیکھ

گدڑیوں سے چھین ڈالے ہیں گہر جتنے بھی تھے

میری غرقابی کے حق میں دست برداری ہوئی

جمع دریا کی عدالت میں بھنور جتنے بھی تھے