عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اعظم ہے تُو عظیم ہے اے ربِ دو جہاں
عالم ہے تُو علیم ہے اے رب دو جہاں
ہم کیا ہیں صرف تیرے ارادے کا عکس ہیں
تُو مدرک فہیم ہے اے رب دو جہاں
دیتا ہے روز رزق بھی ہر اک جنین کو
تُو رازق کریم ہے اے رب دو جہاں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اعظم ہے تُو عظیم ہے اے ربِ دو جہاں
عالم ہے تُو علیم ہے اے رب دو جہاں
ہم کیا ہیں صرف تیرے ارادے کا عکس ہیں
تُو مدرک فہیم ہے اے رب دو جہاں
دیتا ہے روز رزق بھی ہر اک جنین کو
تُو رازق کریم ہے اے رب دو جہاں
جو میری ہتھیلی پہ ہیں دوچار لکیریں
اک عمر سے ہیں لاغر و بیمار لکیریں
کاغذ پہ ابھر آتا ہے موہوم سا چہرہ
یونہی تو نہیں کھینچتا فنکار لکیریں
اس طرح لگی ذہن پہ حالات کی ٹھوکر
ماتھے پہ ہوئیں سوچ کی بیدار لکیریں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طائرِ جان کا اک روز یہ منظر دیکھوں
تیریؐ فرقت میں تڑپتا دلِ مضطر دیکھوں
تِرےﷺ اعجاز کا یہ ادنیٰ کرشمہ مولا
تِرےؐ ہاتھوں میں چہکتے ہوئے کنکر دیکھوں
تِرےؐ نکھرے ہوئے چہرے سے سجی قوسِ قزح
ہر طرح سے میں تجھے رنگ کا پیکر دیکھوں
ہزار ظلم ہوئے راج باج کی خاطر
ہزار قتل ہوئے تخت و تاج کی خاطر
کئی سروں کو اچھالا گیا ہے نیزوں پر
لہو کی ہولیاں کھیلیں رواج کی خاطر
چمن کے کان میں گونجی صبا کی نعرہ زنی
جلائیں مشعلیں اب احتجاج کی خاطر
نہ آہِ دل، نہ ستارے، نہ آسمان جلا
جو ہو سکے تو وفاؤں کا شمعدان جلا
دبیز سائے نہ حدت سے راکھ ہو جائیں
نہ کوئی سرس نہ برگد کا سائبان جلا
تمہارے پاس ہے سورج نئے ارادوں کا
کرن کرن سے اداسی کا ہر گمان جلا
بن گئے بازار کی زینت ثمر جتنے بھی تھے
رفتہ رفتہ ہو گئے ویراں شجر جتنے بھی تھے
وقت کے فنکار ہاتھوں کی اداکاری بھی دیکھ
گدڑیوں سے چھین ڈالے ہیں گہر جتنے بھی تھے
میری غرقابی کے حق میں دست برداری ہوئی
جمع دریا کی عدالت میں بھنور جتنے بھی تھے