نہ آہِ دل، نہ ستارے، نہ آسمان جلا
جو ہو سکے تو وفاؤں کا شمعدان جلا
دبیز سائے نہ حدت سے راکھ ہو جائیں
نہ کوئی سرس نہ برگد کا سائبان جلا
تمہارے پاس ہے سورج نئے ارادوں کا
کرن کرن سے اداسی کا ہر گمان جلا
شفق کے قرمزی شعلوں سے جل بجھا سورج
سحر کی آگ سے ظلمت کا ہر نشان جلا
تمہاری ذات امانت ہے زندہ قوموں کی
نہ خود ہی آتشِ سوزاں سے جسم و جان جلا
تمہاری فکر میں سوزِ دروں کے شعلے ہیں
نہ من میں آتشِ رومی کا آستان جلا
تمہارے شہر میں ظلمت کی راج نیتی ہے
جو ہوسکے تو اندھیروں کا دودمان جلا
قلم تمہارا قلمرو کی مثل ہے صابر
لب خموش سے اپنی نہ آن بان جلا
صابر جاذب
No comments:
Post a Comment