چشم حیراں میں جو حیرانی بسا رکھی ہے
ایک تصویر ہے دنیا سے چھپا رکھی ہے
وصل کی شب میں چراغوں کا تکلف کیسا
آج مہماں تیرے آنچل کی ہوا رکھی ہے
اک شبِ ہجر جو کاٹے نہیں کٹتی ہم سے
اک شبِ وصل جو وعدے پہ اٹھا رکھی ہے
روز لے آتی ہے آنچل کی اڑا کر خوشبو
خوب اس کام پہ معمور صبا رکھی ہے
عشق پیشہ ہیں جفاؤں سے نہیں گھبراتے
ہم نے ہر شے کے مقابل میں وفا رکھی ہے
کشتۂ عشق نہ دنیا میں پنپتے دیکھا
ورنہ ہر مرض کی دنیا میں دوا رکھی ہے
مرمریں جسم میں جذبوں کی حرارت کیسی
کس نے ان سنگ دلوں میں بھی حیا رکھی ہے
طاہر زیدی
No comments:
Post a Comment