Thursday, 3 March 2022

چشم حیراں میں جو حیرانی بسا رکھی ہے

 چشم حیراں میں جو حیرانی بسا رکھی ہے 

ایک تصویر ہے دنیا سے چھپا رکھی ہے 

وصل کی شب میں چراغوں کا تکلف کیسا

آج مہماں تیرے آنچل کی ہوا رکھی ہے 

اک شبِ ہجر جو کاٹے نہیں کٹتی ہم سے 

اک شبِ وصل جو وعدے پہ اٹھا رکھی ہے 

روز لے آتی ہے آنچل کی اڑا کر خوشبو 

خوب اس کام پہ معمور صبا رکھی ہے

عشق پیشہ ہیں جفاؤں سے نہیں گھبراتے

ہم نے ہر شے کے مقابل میں وفا رکھی ہے

کشتۂ عشق نہ دنیا میں پنپتے دیکھا 

ورنہ ہر مرض کی دنیا میں دوا رکھی ہے

 مرمریں جسم میں جذبوں کی حرارت کیسی 

کس نے ان سنگ دلوں میں بھی حیا رکھی ہے


طاہر زیدی

No comments:

Post a Comment