مصور اپنے تصور کا ڈھونڈتا ہے دوام
نہ جام جم نہ وصال صنم نہ شہرت و نام
حیات جبر مسلسل ہے تو ہے جبر شکن
ہر ایک گام پہ آزادگی کا تجھ کو سلام
تصورات کے پھولوں میں رنگ بھرتا ہے
حقیقتوں کی کڑی دھوپ دیتی ہے انعام
مصور اپنے تصور کا ڈھونڈتا ہے دوام
نہ جام جم نہ وصال صنم نہ شہرت و نام
حیات جبر مسلسل ہے تو ہے جبر شکن
ہر ایک گام پہ آزادگی کا تجھ کو سلام
تصورات کے پھولوں میں رنگ بھرتا ہے
حقیقتوں کی کڑی دھوپ دیتی ہے انعام
نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا
خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا
بھڑکتا ہے بجھ بجھ کے اکثر دوبارا
انوکھا ہے کیا زندگی کا شرارہ
اک امید موہوم پر جی رہا ہوں
کہ تنکے کا ہے ڈوبتے کو سہارا
سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ
نئی سحر کے لیے آفتاب لے آؤ
نہ رات ہے نہ خیالات شب نہ خواب سحر
جو دن کی جوت جگا دیں وہ خواب لے آؤ
برا نہیں ہے جو لکھ جائیں اب بھی چند ورق
جو آج تک ہے ادھوری کتاب لے آؤ