Showing posts with label شورش کاشمیری. Show all posts
Showing posts with label شورش کاشمیری. Show all posts

Friday, 6 September 2024

میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے

 شہداء و غازیانِ پاکستان کو خراجِ تحسین

میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے


میں تو کیا میرا سارا مال و منال

میرا گھر بار میرے اہل و اعیال

میرے ان ولولوں کا جاہ و جلال

میری عمرِ رواں کے ماہ و سال 

میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے

Monday, 10 June 2024

کلید حمد و ثنا لا الہ الا اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کلیدِ حمد و ثناء لا الٰہ الا اللہ

خلاصہ ہائے دُعا لا الہ الا اللہ

پہیلیاں ہیں فقیہوں کے دین کی شرحیں

قلندروں کی صدا لا الہ الا اللہ

حیات و موت کو آسان کر لیا میں نے

بنا کے راہ نما لا الہ الا اللہ

Saturday, 14 October 2023

اس رہنما سے مانگ نہ اس رہنما سے مانگ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اِس رہنما سے مانگ نہ اُس رہنما سے مانگ

شورش جو مانگنا ہے وہ اپنے خدا سے مانگ​

ہنگامۂ وغا میں شہیدوں کا بانکپن

مردان بالاکوٹ کی آہِ رسا سے مانگ​

قبروں میں کیا دھرا ہے بجُز کاروبارِ شِرک

تفسیر اس کلام کی ربّ العُلا سے مانگ

Sunday, 30 July 2023

تلاطم خیز ہے طوفان غم کشمیر میں شاہا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام

التجا بحضور شاہِ دو عالمؐ


تلاطم خیز ہے طوفانِ غم، کشمیر میں شاہاؐ

نزول صد بلا ہے دم بدم کشمیر میں شاہاؐ

نکالا گھر سے کشمیری مسلمانوں کو اور ان پر

کیا ہے دشمنِ دِیں نے ستم کشمیر میں شاہاؐ

مسلمانوں کے خوں سے سرخ ہے رنگِ شفق اس کا

زمیں خونِ شہیداں سے ہے نم کشمیر میں شاہاؐ

Saturday, 9 July 2022

میں اپنے دوستوں کو عید پر بھیجوں تو کیا بھیجوں

 عیدی


میں اپنے دوستوں کو عید پربھیجوں تو کیا بھیجوں

خُدا توفیق دے تو ہدیۂ مہر و وفا بھیجوں

لڑکپن کی رسیلی داستانوں کے لِبادے میں

حدیثِ شوق، نقدِ آرزُو، آہِ رسا بھیجوں

جوانی کے شگُفتہ ولولوں کا تذکرہ لِکھ کر

طبیعت کا تقاضا ہے، دلِ درد آشنا بھیجوں

Monday, 25 January 2021

یہ خبر شورش نوائے وقت میں تھی پرملال

 یہ خبر شورش نوائے وقت میں تھی پُرملال

ہو گیا لاہور میں شورش کا پرسوں انتقال

مختصر سی خبر کونے میں تھی اخبار کے

حاشیہ دے کر سیاہ لکھا تھا لفظ اِرتحال

بے اثر لفظوں میں تھی مرقوم رُودادِ وفات

جانکنی میں کوئی انسان نہ تھا پُرسانِ حال

Friday, 16 October 2020

ناقدو وقت کی رفتار بدلنے کے لیے میں نے مجبور زبانوں کو نوا بخشی ہے

 ناقدو! وقت کی رفتار بدلنے کے لیے

میں نے مجبور زبانوں کو نوا بخشی ہے

کجکلاہوں کی رعونت کا اڑایا ہے مذاق

میں نے تاریخ کے چہرے کو ضیا بخشی ہے


سجنِ افرنگ کو لبیک کہی میں نے

اپنے اسلاف کے بے خوف چلن کی خاطر

Monday, 7 September 2020

عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے

مرثیہ 
بر مرگِ مولانا ابوالکلام آزاد


عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبین نہیں
تِری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزِیں نہیں ہے
مگر تِری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

Friday, 22 December 2017

دوستداران وفا گم ہو گئے

دوستدارانِ وفا گم ہو گئے
وائے اربابِ وفا گم ہو گئے
راستے پر پیچ ، راہی دلفگار
رہبروں کے نقشِ پا گم ہو گئے
رات کے تاریک سناٹوں کے ساتھ
مطربانِ خوشنوا گم ہو گئے

ٹل نہیں سکتا کسی حالت میں فرمان حسین

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام الشہدا امام حسین 

ٹل نہیں سکتا کسی حالت میں فرمان حسین
ثبت ہے تاریخ کے چہرے یہ عنوان حسین
معصیت سے بھی سوا ہے طاقت فسق و فجور
تھا کتاب اللہ کی تفسیر کا اعلان حسین
سر کٹا کے دین ابراہیمؑ کو زندہ کیا
دین قیم کا مرقع تھے جوانان حسین

Monday, 13 November 2017

کچھ ایرے ہیں کچھ غیرے ہیں

کچھ ایرے ہیں، کچھ غیرے ہیں
کچھ نتھو ہیں، کچھ خیرے ہیں
کچھ جھوٹے ہیں، کچھ سچے ہیں
کچھ بڈھے ہیں، کچھ بچے ہیں
کچھ ململ ہیں، کچھ لٹھے ہیں
کچھ چیمے ہیں، کچھ چٹھے ہیں

دعائے نیم شبی

دعائے نِیم شبی

زورِ بیان و قوتِ اظہار چھین لے
مجھ سے مِرے خدا! مِرِے افکار چھین لے
کچھ بجلیاں اتار، قضا کے لباس میں
تاج و کُلاہ و جبّہ و دستار چھین لے
عِفت کے تاجروں کی دکانوں کوغرق کر
نظارہ ہائے گیسو و رخسار چھین لے

شکریہ؛ سوچتا ہوں کہ اسی قوم کے وارث ہم ہیں​

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

شکریہ

سوچتا ہوں کہ اسی قوم کے وارث ہم ہیں​
جس نے اولاد پیمبر کا تماشا دیکھا​
جس نے سادات کے خیموں کی طنابیں توڑیں​
جس نے لختِ دل حیدر کو تڑپتا دیکھا​
برسرِ عام سکینہ کی نقابیں الٹیں​
لشکرِ حیدر کرار کو لٹتا دیکھا​

Friday, 30 December 2016

دار و رسن کی گود کے پالے ہوئے ہیں ہم

دار و رسن کی گود کے پالے ہوئے ہیں ہم 
سانچے میں مشکلات کے ڈھالے ہوئے ہیں ہم
وہ دولتِ جنوں کہ زمانے سے اٹھ گئی
اس دولتِ جنوں کو سنبھالے ہوئے ہیں ہم
اپنے سروں کو نوکِ سناں پر بہ کر و فر
پُر ہول معرکوں میں اچھالے ہوئے ہیں ہم

اس دور پر آشوب میں اے عید نہ آ تو

عیدِ قرباں

اس دورِ پُر آشوب میں اے عید نہ آ تُو
آئی ہے تو اسلوبِ ابراہیمؑ سکھا تو
کشمیر کی جنت سے شہیدوں کا لہو مانگ
طاغوت کو اسلام کی طاقت سے ہرا تو
کونین کے آقاؐ کی رسالت کے علم کھول
توحید پرستوں کو سکھا صبر و رضا تو

یہ دور تیره و تاریک بیت جائے گا

جریدہ چٹان کی بندش پر میاں ممتاز دولتانہ کو مخاطب کرتے ہوئے

یہ دور تیره و تاریک بیت جائے گا
کبهی تو مہرِ جہاں تاب مسکرائے گا
ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا
وزارتیں تو کهلونا ہیں، ٹوٹ جائیں گی 
چٹان آئے گا آخر،۔ ضرور آئے گا

Sunday, 25 December 2016

ہم اہل قلم کیا ہیں

ہم اہلِ قلم کیا ہیں؟
الفاظ کا جھگڑا ہیں، بے جوڑ سراپا ہیں
بجتا ہوا ڈنکا ہیں، ہر دیگ کا چمچا ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں
مشہور صحافی ہیں، عنوانِ معافی ہیں
شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں

مری حقیر جسارت نے بادہ خانے میں

فقیہِ شہر

مِری حقیر جسارت نے بادہ خانے میں
فقیہِ شہر کو کل رات لاجواب کیا
حضور آپ اور اس میکدے کی چوکھٹ پر
حضور آپ نے ذروں کو آفتاب کیا
بہ ایں لباس درِ مے کدہ تک آ پہنچے
بہ ایں قبا مے و مینا کو انتخاب کیا

Friday, 25 November 2016

کون ناموس رسالت کا نگہبان ہو گیا

اقتباس از نوحۂ امام عالی مقام بر امام حسین

کون ناموسِ رسالت کا نگہبان ہو گیا
کس کا سر نیزے کو پہنچا کون قرباں ہو گیا
کس نے کی صبحِ ملوکیت کی شامِ اولیں
کون شمعِ ظلمتِ شامِ غریباں ہو گیا
کس کی شہ رگ پر یزیدی ہاتھ اٹھے بے دریغ
کون تھا، جس کا لہو، تفسیرِ قرآں ہو گیا

قرن اول کی روایت کا نگہدار حسین​

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

قرنِ اول کی روایت کا نگہدار حسین​
بس کہ تھا لختِ دلِ حیدرِ کرارؓ حسینؓ
عرصۂ شام میں سی پارۂ قرآنِ حکیم​
وادیٔ نجد میں اسلام کی للکار حسین​
کوئ انساں کسی انساں کا پرستار نہ ہو​
اس جہاں تاب حقیقت کا علمدار حسین​