شہداء و غازیانِ پاکستان کو خراجِ تحسین
میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے
میں تو کیا میرا سارا مال و منال
میرا گھر بار میرے اہل و اعیال
میرے ان ولولوں کا جاہ و جلال
میری عمرِ رواں کے ماہ و سال
میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے
شہداء و غازیانِ پاکستان کو خراجِ تحسین
میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے
میں تو کیا میرا سارا مال و منال
میرا گھر بار میرے اہل و اعیال
میرے ان ولولوں کا جاہ و جلال
میری عمرِ رواں کے ماہ و سال
میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کلیدِ حمد و ثناء لا الٰہ الا اللہ
خلاصہ ہائے دُعا لا الہ الا اللہ
پہیلیاں ہیں فقیہوں کے دین کی شرحیں
قلندروں کی صدا لا الہ الا اللہ
حیات و موت کو آسان کر لیا میں نے
بنا کے راہ نما لا الہ الا اللہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اِس رہنما سے مانگ نہ اُس رہنما سے مانگ
شورش جو مانگنا ہے وہ اپنے خدا سے مانگ
ہنگامۂ وغا میں شہیدوں کا بانکپن
مردان بالاکوٹ کی آہِ رسا سے مانگ
قبروں میں کیا دھرا ہے بجُز کاروبارِ شِرک
تفسیر اس کلام کی ربّ العُلا سے مانگ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
التجا بحضور شاہِ دو عالمؐ
تلاطم خیز ہے طوفانِ غم، کشمیر میں شاہاؐ
نزول صد بلا ہے دم بدم کشمیر میں شاہاؐ
نکالا گھر سے کشمیری مسلمانوں کو اور ان پر
کیا ہے دشمنِ دِیں نے ستم کشمیر میں شاہاؐ
مسلمانوں کے خوں سے سرخ ہے رنگِ شفق اس کا
زمیں خونِ شہیداں سے ہے نم کشمیر میں شاہاؐ
عیدی
میں اپنے دوستوں کو عید پربھیجوں تو کیا بھیجوں
خُدا توفیق دے تو ہدیۂ مہر و وفا بھیجوں
لڑکپن کی رسیلی داستانوں کے لِبادے میں
حدیثِ شوق، نقدِ آرزُو، آہِ رسا بھیجوں
جوانی کے شگُفتہ ولولوں کا تذکرہ لِکھ کر
طبیعت کا تقاضا ہے، دلِ درد آشنا بھیجوں
یہ خبر شورش نوائے وقت میں تھی پُرملال
ہو گیا لاہور میں شورش کا پرسوں انتقال
مختصر سی خبر کونے میں تھی اخبار کے
حاشیہ دے کر سیاہ لکھا تھا لفظ اِرتحال
بے اثر لفظوں میں تھی مرقوم رُودادِ وفات
جانکنی میں کوئی انسان نہ تھا پُرسانِ حال
ناقدو! وقت کی رفتار بدلنے کے لیے
میں نے مجبور زبانوں کو نوا بخشی ہے
کجکلاہوں کی رعونت کا اڑایا ہے مذاق
میں نے تاریخ کے چہرے کو ضیا بخشی ہے
سجنِ افرنگ کو لبیک کہی میں نے
اپنے اسلاف کے بے خوف چلن کی خاطر