فقیہِ شہر
مِری حقیر جسارت نے بادہ خانے میں
فقیہِ شہر کو کل رات لاجواب کیا
حضور آپ اور اس میکدے کی چوکھٹ پر
حضور آپ نے ذروں کو آفتاب کیا
بہ ایں لباس درِ مے کدہ تک آ پہنچے
سفید ریش کی اس طرح آبرو رکھی
کہ خونِ مے سے ہر بال کو خضاب کیا
خدا کے فضل سے حوروں کے ڈارلنگ ٹھہرے
اس آرزو میں جوانی کو فیض یاب کیا
صبا کے روپ میں صرصر سے دوستی گانٹھی
ہوس کی اوٹ میں چہرے کو بے نقاب کیا
سوادِ شب میں حسینوں سے شاد کام ہوئے
سحر ہوئی تو زمانے کا احتساب کیا
ہر اک ثواب بہ عنوان آخرت چھوڑا
ہر اک گناہ بہ انداز اجتناب کیا
فقیہِ شہر نے یہ گفتگو سنی تو کہا
جو کام ہم نے کیا از رہِ ثواب کیا
آغا شورش کاشمیری
No comments:
Post a Comment