بہار آئی ہے پهر چمن میں، نسیم اٹهلا کے چل رہی ہے
ہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہے
وہ آ گئے لو، وہ جی اٹها میں، عدو کی امید یاس ٹھہری
عجب تماشا ہے دل لگی ہے، قضا کھڑی ہاتھ مل رہی ہے
بتاؤ دل دوں، نہ دوں کہو تو، عجیب نازک معاملہ ہے
تڑپ رہا ہوں یہاں میں تنہا، وہاں عدو سے وہ ہم بغل ہیں
کسی کے دم پر بنی ہوئی ہے، کسی کی حسرت نکل رہی ہے
گھٹا وہ چهائی وہ ابر اٹها، یہی تو ہے وقت مے کشی کا
بلاؤ شاعؔر کو ہے کہاں وہ، شراب شیشے سے ڈهل رہی ہے
آغا شاعر قزلباش
No comments:
Post a Comment