Showing posts with label باقر زیدی. Show all posts
Showing posts with label باقر زیدی. Show all posts

Wednesday, 22 March 2023

وقف فریاد بھی نہیں رہتا

 وقفِ فریاد بھی نہیں رہتا

دل مگر شاد بھی نہیں رہتا

ایک وہ ہے کہ بھولتا ہی نہیں

اور کچھ یاد بھی نہیں رہتا

جب جہالت کا دور دورہ ہو

کوئی استاد بھی نہیں رہتا

Sunday, 12 December 2021

جو اہل دل ہیں آل پیمبر کے ساتھ ساتھ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام منقبت سلام

 جو اہلِ دل ہیں آلِ پیؑمبر کے ساتھ ساتھ

محشر میں ہوں گے ساقئ کؑوثر کے ساتھ ساتھ

کم تر کا بھی مقام ہے برتر کے ساتھ ساتھ

کانٹے لگے ہوئے ہیں گُلِ تر کے ساتھ ساتھ

آئی نہ جانے کیوں کسی بچھڑے ہوئے کی یاد

دیکھے جو دو پرند برابر کے ساتھ ساتھ

Friday, 21 May 2021

جب نظر حسن رسا ہوتی ہے

 جب نظر حسن رسا ہوتی ہے​

ہر قدم لغزشِ پا ہوتی ہے​

اس کے ملبوسِ بدن کی خوشبو​

کس قدر ہوشربا ہوتی ہے​

خود کو خود سے ہی چُھپا رکھنے میں​

کیا ستم گر سی ادا ہوتی ہے

Monday, 26 April 2021

ذکر اس کا اگر پیکر اشعار میں آوے

 ذکر اُس کا اگر پیکرِ اشعار میں آوے

کیا کیا نہ مزہ لذتِ گُفتار میں آوے

مطلوبِ نظر چشمِ طلبگار میں آوے

سورج کی طرح روزن دیوار میں آوے

رکھا ہے قدم حضرتِ غالب کی زمیں پر

کچھ اور بلندی مِرے افکار میں آوے

Monday, 19 April 2021

اب تو ایسی کوئی گھڑی آئے

 اب تو ایسی کوئی گھڑی آئے

حسن کو خود سپردگی آئے

اب ہمیں دے گی کیا مزہ یہ شراب

ہم تو آنکھوں سے اس کی، پی آئے

دشمنوں سے بھی راہ و رسم بڑھیں

دوستوں میں جو کچھ کمی آئے

Wednesday, 14 April 2021

یہ آشنا کا ہے نہ کسی اجنبی کا ہے

 یہ آشنا کا ہے، نہ کسی اجنبی کا ہے​

جو دل میں گھر بناتا ہے، دل تو اُسی کا ہے​

میرے ہُنر کا ہے، نہ مِری شاعری کا ہے​

غزلوں سے میری، شہر میں چرچا اُسی کا ہے​

بدلے حسِیں، تو عشق کی دنیا بدل گئی​

جو دل کسی کا ہوتا تھا، اب ہر کسی کا ہے

Tuesday, 13 April 2021

کچھ نئے حرف لکھوں کوئی نئی بات کروں

 کچھ نئے حرف لکھوں، کوئی نئی بات کروں

کچھ تو ہو پاس مِرے جس سے مباہات کروں

اجنبیت تِرے ماحول میں دَم گُھٹتا ہے

کوئی ایسا بھی ملے، جس سے کوئی بات کروں

کچھ تو مجھ سے بھی ملے میرے تمدن کا سراغ

ترک میں کیوں روشِ پاسِ روایات کروں

Tuesday, 23 February 2021

بجھے چراغ جلانا اسی کو آتا ہے

 بجھے چراغ جلانا اسی کو آتا ہے

خزاں میں پھول کِھلانا اسی کو آتا ہے

وہ سامنے ہو تو، پھر کچھ نظر نہیں آتا

دل و نگاہ پہ چھانا اسی کو آتا ہے

متاعِ حسن کو شرم و حیا کے آنچل میں

چھپا چھپا کے دِکھانا اسی کو آتا ہے