وقفِ فریاد بھی نہیں رہتا
دل مگر شاد بھی نہیں رہتا
ایک وہ ہے کہ بھولتا ہی نہیں
اور کچھ یاد بھی نہیں رہتا
جب جہالت کا دور دورہ ہو
کوئی استاد بھی نہیں رہتا
وقفِ فریاد بھی نہیں رہتا
دل مگر شاد بھی نہیں رہتا
ایک وہ ہے کہ بھولتا ہی نہیں
اور کچھ یاد بھی نہیں رہتا
جب جہالت کا دور دورہ ہو
کوئی استاد بھی نہیں رہتا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام منقبت سلام
جو اہلِ دل ہیں آلِ پیؑمبر کے ساتھ ساتھ
محشر میں ہوں گے ساقئ کؑوثر کے ساتھ ساتھ
کم تر کا بھی مقام ہے برتر کے ساتھ ساتھ
کانٹے لگے ہوئے ہیں گُلِ تر کے ساتھ ساتھ
آئی نہ جانے کیوں کسی بچھڑے ہوئے کی یاد
دیکھے جو دو پرند برابر کے ساتھ ساتھ
جب نظر حسن رسا ہوتی ہے
ہر قدم لغزشِ پا ہوتی ہے
اس کے ملبوسِ بدن کی خوشبو
کس قدر ہوشربا ہوتی ہے
خود کو خود سے ہی چُھپا رکھنے میں
کیا ستم گر سی ادا ہوتی ہے
ذکر اُس کا اگر پیکرِ اشعار میں آوے
کیا کیا نہ مزہ لذتِ گُفتار میں آوے
مطلوبِ نظر چشمِ طلبگار میں آوے
سورج کی طرح روزن دیوار میں آوے
رکھا ہے قدم حضرتِ غالب کی زمیں پر
کچھ اور بلندی مِرے افکار میں آوے
اب تو ایسی کوئی گھڑی آئے
حسن کو خود سپردگی آئے
اب ہمیں دے گی کیا مزہ یہ شراب
ہم تو آنکھوں سے اس کی، پی آئے
دشمنوں سے بھی راہ و رسم بڑھیں
دوستوں میں جو کچھ کمی آئے
یہ آشنا کا ہے، نہ کسی اجنبی کا ہے
جو دل میں گھر بناتا ہے، دل تو اُسی کا ہے
میرے ہُنر کا ہے، نہ مِری شاعری کا ہے
غزلوں سے میری، شہر میں چرچا اُسی کا ہے
بدلے حسِیں، تو عشق کی دنیا بدل گئی
جو دل کسی کا ہوتا تھا، اب ہر کسی کا ہے
کچھ نئے حرف لکھوں، کوئی نئی بات کروں
کچھ تو ہو پاس مِرے جس سے مباہات کروں
اجنبیت تِرے ماحول میں دَم گُھٹتا ہے
کوئی ایسا بھی ملے، جس سے کوئی بات کروں
کچھ تو مجھ سے بھی ملے میرے تمدن کا سراغ
ترک میں کیوں روشِ پاسِ روایات کروں
بجھے چراغ جلانا اسی کو آتا ہے
خزاں میں پھول کِھلانا اسی کو آتا ہے
وہ سامنے ہو تو، پھر کچھ نظر نہیں آتا
دل و نگاہ پہ چھانا اسی کو آتا ہے
متاعِ حسن کو شرم و حیا کے آنچل میں
چھپا چھپا کے دِکھانا اسی کو آتا ہے