Wednesday, 14 April 2021

یہ آشنا کا ہے نہ کسی اجنبی کا ہے

 یہ آشنا کا ہے، نہ کسی اجنبی کا ہے​

جو دل میں گھر بناتا ہے، دل تو اُسی کا ہے​

میرے ہُنر کا ہے، نہ مِری شاعری کا ہے​

غزلوں سے میری، شہر میں چرچا اُسی کا ہے​

بدلے حسِیں، تو عشق کی دنیا بدل گئی​

جو دل کسی کا ہوتا تھا، اب ہر کسی کا ہے

​کیوں ڈھونڈتے ہیں لوگ کسی اور راہ کو​

سیدھا تو ایک راستہ بس راستی کا ہے​

اِس نے تو اور کھول دئیے راستے کئی​

اک شور ہر طرف جو یہ دہشت گری کا ہے​

پڑتا ہے مہر و مہ کا اندھیروں سے واسطہ​

ظلمت کے راستوں میں سفر روشنی کا ہے​

جن کا رہا ہمیشہ اجارہ بہار پر​

اب وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گلشن سبھی کا ہے​

دل کے معاملات میں دنیا کا دخل کیا​

کچھ جبر کا نہیں ہے یہ سودا خوشی کا ہے​

اِس عرصۂ حیات میں نعمت ہے موت بھی ​

جو موت کا خدا ہے، وہی زندگی کا ہے​

پنہاں نہیں رہا ہے بصیرت کی چشم سے​

جو قحط سیلِ نُور میں اب روشنی کا ہے​

لگتا ہے اعتبار کی دولت مِلی مجھے​

اہلِ نظرمیں ذکر مِری شاعری کا ہے​​

باقر زیدی​

No comments:

Post a Comment