یہ آشنا کا ہے، نہ کسی اجنبی کا ہے
جو دل میں گھر بناتا ہے، دل تو اُسی کا ہے
میرے ہُنر کا ہے، نہ مِری شاعری کا ہے
غزلوں سے میری، شہر میں چرچا اُسی کا ہے
بدلے حسِیں، تو عشق کی دنیا بدل گئی
جو دل کسی کا ہوتا تھا، اب ہر کسی کا ہے
سیدھا تو ایک راستہ بس راستی کا ہے
اِس نے تو اور کھول دئیے راستے کئی
اک شور ہر طرف جو یہ دہشت گری کا ہے
پڑتا ہے مہر و مہ کا اندھیروں سے واسطہ
ظلمت کے راستوں میں سفر روشنی کا ہے
جن کا رہا ہمیشہ اجارہ بہار پر
اب وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گلشن سبھی کا ہے
دل کے معاملات میں دنیا کا دخل کیا
کچھ جبر کا نہیں ہے یہ سودا خوشی کا ہے
اِس عرصۂ حیات میں نعمت ہے موت بھی
جو موت کا خدا ہے، وہی زندگی کا ہے
پنہاں نہیں رہا ہے بصیرت کی چشم سے
جو قحط سیلِ نُور میں اب روشنی کا ہے
لگتا ہے اعتبار کی دولت مِلی مجھے
اہلِ نظرمیں ذکر مِری شاعری کا ہے
باقر زیدی
No comments:
Post a Comment