Showing posts with label تنویر غازی. Show all posts
Showing posts with label تنویر غازی. Show all posts

Monday, 19 January 2026

عشق پر وقت مشکل پڑا ہے

 عشق پر وقت مُشکل پڑا ہے

عُمر چھوٹی ہے سپنا بڑا ہے

جان دے کر چُھڑا لوں گا اک دن

دل تِرے پاس گِروی پڑا ہے

عشق کی عُمر کیا پوچھتی ہو

عقل سے نو مہینے بڑا ہے

Wednesday, 21 May 2025

یہاں کیا قتل خوابوں کا ہوا ہے

 یہاں کیا قتل خوابوں کا ہوا ہے

تِری آنکھوں میں کیوں کرفیو لگا ہے

میں جس کے عشق میں مٹی ہوا تھا

اسے سونے کے پانی سے لکھا ہے

مِری آنکھوں میں اکثر دکھنے والا

مِری آواز کے پیچھے چھپا ہے

Thursday, 22 July 2021

کہہ رہی تھی کتاب پھٹ کے مجھے

کہہ رہی تھی کتاب پھٹ کے مجھے

کیا ملا میر جی کو رٹ کے مجھے

📑شاعری کاروبار تھی پہلے📑

بیس ملتے تھے دس منٹ کے مجھے

میں جو پلٹا تو میں نے یہ دیکھا

اس نے دیکھا ہے پھر پلٹ کے مجھے

Sunday, 23 May 2021

اس کی آنکھوں میں محبت کی چمک آج بھی ہے

اس کی آنکھوں میں محبت کی چمک آج بھی ہے

اس کو حالانکہ مِرے پیار پہ شک آج بھی ہے

ناؤ میں بیٹھ کے دھوئے تھے کبھی ہاتھ اس نے

سارے تالاب میں مہندی کی مہک آج بھی ہے

میری اک شرٹ میں کل اس نے بٹن ٹانکا تھا

شہر کے شور میں چوڑی کی کھنک آج بھی ہے