عشق پر وقت مُشکل پڑا ہے
عُمر چھوٹی ہے سپنا بڑا ہے
جان دے کر چُھڑا لوں گا اک دن
دل تِرے پاس گِروی پڑا ہے
عشق کی عُمر کیا پوچھتی ہو
عقل سے نو مہینے بڑا ہے
عشق پر وقت مُشکل پڑا ہے
عُمر چھوٹی ہے سپنا بڑا ہے
جان دے کر چُھڑا لوں گا اک دن
دل تِرے پاس گِروی پڑا ہے
عشق کی عُمر کیا پوچھتی ہو
عقل سے نو مہینے بڑا ہے
یہاں کیا قتل خوابوں کا ہوا ہے
تِری آنکھوں میں کیوں کرفیو لگا ہے
میں جس کے عشق میں مٹی ہوا تھا
اسے سونے کے پانی سے لکھا ہے
مِری آنکھوں میں اکثر دکھنے والا
مِری آواز کے پیچھے چھپا ہے
کہہ رہی تھی کتاب پھٹ کے مجھے
کیا ملا میر جی کو رٹ کے مجھے
📑شاعری کاروبار تھی پہلے📑
بیس ملتے تھے دس منٹ کے مجھے
میں جو پلٹا تو میں نے یہ دیکھا
اس نے دیکھا ہے پھر پلٹ کے مجھے
اس کی آنکھوں میں محبت کی چمک آج بھی ہے
اس کو حالانکہ مِرے پیار پہ شک آج بھی ہے
ناؤ میں بیٹھ کے دھوئے تھے کبھی ہاتھ اس نے
سارے تالاب میں مہندی کی مہک آج بھی ہے
میری اک شرٹ میں کل اس نے بٹن ٹانکا تھا
شہر کے شور میں چوڑی کی کھنک آج بھی ہے