Thursday, 22 July 2021

کہہ رہی تھی کتاب پھٹ کے مجھے

کہہ رہی تھی کتاب پھٹ کے مجھے

کیا ملا میر جی کو رٹ کے مجھے

📑شاعری کاروبار تھی پہلے📑

بیس ملتے تھے دس منٹ کے مجھے

میں جو پلٹا تو میں نے یہ دیکھا

اس نے دیکھا ہے پھر پلٹ کے مجھے

صبح تک اب تمہیں پگھلنا ہے

آگ کہنے لگی لپٹ کے مجھے

آج تک روح میں نمی سی ہے

اتنا روئی تھی وہ لپٹ کے مجھے


تنویر غازی

No comments:

Post a Comment