کہہ رہی تھی کتاب پھٹ کے مجھے
کیا ملا میر جی کو رٹ کے مجھے
📑شاعری کاروبار تھی پہلے📑
بیس ملتے تھے دس منٹ کے مجھے
میں جو پلٹا تو میں نے یہ دیکھا
اس نے دیکھا ہے پھر پلٹ کے مجھے
صبح تک اب تمہیں پگھلنا ہے
آگ کہنے لگی لپٹ کے مجھے
آج تک روح میں نمی سی ہے
اتنا روئی تھی وہ لپٹ کے مجھے
تنویر غازی
No comments:
Post a Comment