Thursday, 22 July 2021

ہنستا ہوا ہر درد کے صحرا سے گزر جا

 ہنستا ہوا ہر درد کے صحرا سے گُزر جا

دامن پہ زمانے کے خوشی بن کے بکھر جا

کر جائیں گے زخمی تجھے احساس کے پتھر

پھلدار درختوں سے تُو کترا کے گزر جا

موتی ہے تو بن زینتِ آویزۂ فطرت

آنسو ہے تو پھر ٹوٹ کے قدموں میں بکھر جا

یہ درس ملا رہ کے مجھے شہرِ انا میں

جس سمت ہو دنیا کی ہوا تُو بھی اُدھر جا

ہر آنکھ بتاتی ہے پتہ تیری گلی کا

ہر چہرہ یہ کہتا ہے کہ جا تُو بھی اُدھر جا

ممکن ہے کہ گزریں وہ کسی روز اِدھر سے

آ، ریت کی مانند سرِ راہ بکھر جا

کیا غم جو زمانے نے بُھلایا تجھے سنبل

اب توڑ دے پیمان وفا تُو بھی مُکر جا


صبیحہ سنبل

No comments:

Post a Comment