Showing posts with label اکبر حمیدی. Show all posts
Showing posts with label اکبر حمیدی. Show all posts

Wednesday, 7 December 2016

کہا تھا اس نے محبت کی آبرو رکھنا

کہا تھا اس نے محبت کی آبرو رکھنا
چبھے ہوں کتنے ہی کانٹے گلوں کی خو رکھنا
دلوں کو توڑ نہ ڈالے تمہاری حق گوئی
بجائے حرف کے آئینہ روبرو رکھنا
جو وقت اہلِ وفا سے کبھی لہو مانگے
تو سب سے پہلے لبِ تیغ پر گلو رکھنا

نام اکبر تو مرا ماں کی دعا نے رکھا

نام اکبر تو مِرا ماں کی دعا نے رکھا
ہاں بھرم اس کا مگر خدا نے رکھا
وہ بھی دن تھے کہ تِرے آنے کا پیغام آیا
تب مرے گھر میں قدم بادِ صبا نے رکھا
کس طرح لوگوں نے مانگیں تھیں دعائیں اس کی
کچھ لحاظ اس کا نہ بے مہر ہوا نے رکھا

Saturday, 6 August 2016

کس کے قلم سے بھاگ ہمارے لکھے گئے

کس کے قلم سے بھاگ ہمارے لکھے گئے
آنسو نہ لکھ سکے تو ستارے لکھے گئے
اظہار کی مروتیں تھیں اور کچھ نہ تھا
طوفان کی بجائے کنارے لکھے گئے
وہ جو ہماری جان کے دشمن بنے رہے
ہم ان کو اپنی جان سے پیارے لکھے گئے

کچھ زمیں پر رہ گیا کچھ آسماں میں رہ گیا

کچھ زمیں پر رہ گیا کچھ آسماں میں رہ گیا
اک ضروری کام تھا جو درمیاں میں رہ گیا
چاہتیں دونوں طرف تھیں پر نہ مل پائے کہیں
میں مکاں میں وہ غرورِ لا مکاں میں رہ گیا
دل میں کیا کچھ تھا مگر کچھ بھی نہ کہہ پائے انہیں
حرفِ مطلب جو بھی تھا حُسنِ بیاں میں رہ گیا

Tuesday, 3 May 2016

سچ پہ اصرار بھی ضروری ہے

سچ پہ اصرار بھی ضروری ہے
حسنِ اظہار بھی ضروری ہے
یونہی بدنامیاں نہیں ملتیں
اچھا کردار بھی ضروری ہے
وحشتیں ایسے ہی نہیں ہوتیں
رہ میں دیوار بھی ضروری ہے

غم زمانہ کریں ترک خوش خیالی کریں

غمِ زمانہ کریں ترک، خوش خیالی کریں
جہاں تلک ہو مزاجوں کو لا ابالی کریں
بہت سے اور عوامل بھی اس میں شامل ہیں
ہر ایک بات پہ کیوں اپنی گوشمالی کریں
اجاڑنی نہیں دل کی ہری بھری فصلیں
خود اپنے ہاتھوں سے مت اپنی پائمالی کریں

Sunday, 24 April 2016

گماں یک طرفہ ہے سفر ہے یک طرفہ

گماں یک طرفہ ہے سفر ہے یک طرفہ
ہماری عمر میں سارا سفر ہے یک طرفہ
جو اس گلی میں گیا،۔۔ لوٹ کر نہیں آیا
کہ اس گلی کی ہر اک رہگزر ہے یک طرفہ
یہ زندگی ہے جو سمجھوتہ کر سکو اس سے
تمہارے حق میں ہے پھر بھی، اگر ہے یک طرفہ

یہ میں کس شہر کے نواح میں ہوں

یہ میں کس شہر کے نواح میں ہوں
روز و شب جیسے قتل گاہ میں ہوں
وقت نے جیسے نظریں پھیری ہیں
اور میں کوششِ نِباہ میں ہوں
راستے بند ہوتے جاتے ہیں
اور میں منزلوں کی چاہ میں ہوں

Friday, 15 April 2016

گھن گھور اندھیروں میں ستارا چمکے

گھن گھور اندھیروں میں ستارا چمکے
جیسے طوفاں میں کنارا چمکے
وہی بحران ہے اب بھی لیکن
تیری آنکھوں میں اشارا چمکے
وقت بن جاتا ہے مرہم خود ہی
اشک مانندِ غبارا چمکے

اس کو نظر میں بھر رکھا ہے

اس کو نظر میں بھر رکھا ہے
آدھا کام تو کر رکھا ہے
اس نے کہا تھا مت گھبرانا
ہر دیوار میں در رکھا ہے
کچھ تو اس کے معنی ہونگے
ہر شانے پر سر رکھا ہے

جو بھی حالات ہوں پیچھے نہیں ہٹنے والے

جو بھی حالات ہوں پیچھے نہیں ہٹنے والے
ہم ہیں عشاق تیری آن پہ کٹنے والے
چڑھتے سورج کو بھلا روک سکا ہے کوئی
کون کہتا ہے یہ بادل نہیں چھَٹنے والے
ہم وہ خورشیدِ جہاں تاب ہیں چمکے جو سدا
ہم کوئی چاند نہیں ہیں، جو ہوں گھٹنے والے