نام اکبر تو مِرا ماں کی دعا نے رکھا
ہاں بھرم اس کا مگر خدا نے رکھا
وہ بھی دن تھے کہ تِرے آنے کا پیغام آیا
تب مرے گھر میں قدم بادِ صبا نے رکھا
کس طرح لوگوں نے مانگیں تھیں دعائیں اس کی
ایسے حالات تھے اک روز نہ جی سکتے تھے
ہم کو زندہ تِرے پیمانِ وفا نے رکھا
جس نے رکھا تِری مٹتی ہوئی قدروں کا لحاظ
کچھ خیال اس کا نہیں تُو نے زمانے رکھا
صرف اکبرؔ ہی نہیں دیکھ کے تصویر ہُوا
سب کو حیراں تِرے نقشِ کفِ پا نے رکھا
اکبر حمیدی
No comments:
Post a Comment